Bharat Express DD Free Dish

Hijab and Saffron Shawls in Karnataka: کرناٹک میں حجاب کو ملی اجازت تو شروع ہوگیا بھگوا پر ہنگامہ، جانئے کیا ہے کانگریس کی سدارمیا حکومت کا نیا حکم

کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں صرف پہلے سے چلی آرہی روایات کو ہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نیا طریقہ متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔

کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اسکول اورکالج کے یونیفارم سے متعلق اپنے 5 فروری 2022 کے حکم کوواپس لے لیا ہے اورنئی ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ اس درمیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعرات (14 مئی، 2026) کوواضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں بھگوا شال پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ میسورومیں انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے حکم میں طلبا کو موجودہ مذہبی روایات پرعمل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اسکولوں اورکالجوں کے اندرنئی روایات کوشروع کرنے کی اجازت قطعی نہیں دی گئی ہے۔

بھگوا شال پہننے کی نہیں ملی اجازت

وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا،  ”بھگوا رنگ کی شال پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ اس طرح کی شال نہیں پہنی جاسکتیں۔ پگڑی، جنیو، رودراکش اورحجاب پہننے کی اجازت ہے۔” حالانکہ انہوں نے کہا کہ صرف پہلے سے جاری روایات کوہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ”جب ہم پگڑی کی بات کرتے ہیں توہمارا مطلب ان روایات سے ہے، جو پہلے سے موجود ہیں۔ کوئی بھی نئی روایت شروع نہیں کی جاسکتی۔”

بی جے پی نے کانگریس پراٹھائے سوال

کرناٹک میں اپوزیشن لیڈرآراشوک نے ریاست کی کانگریس حکومت پرسوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ داون گیرے ضمنی الیکشن کے نتیجوں اوراقلیتی طبقہ کے رائے دہندگان میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کے بعد کانگریس حکومت نے ایک مایوس کن حکمت عملی کے تحت حجاب کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جہاں کرناٹک میں بڑھتی مہنگائی، بدعنوانی، کسانوں کی خود کشی اوربگڑتی صورتحال جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے، وہیں ریاستی حکومت فائدہ کے لئے مذہبی موضوعات پرتوجہ مرکوزکررہی ہے۔

حجاب کے لئے دروازے پھرسے کھول دیئے: امت مالویہ

بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے خفیہ طریقے سے 5 فروری، 2022 کے یونیفارم سے متعلق حکم کوواپس لے لیا ہے اور’محدود روایات اورمذہبی علامات’ کی آڑمیں اسکولوں میں حجاب کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری حکم یونیفارم کو بنائے رکھنے کی بات کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے اندرمذہبی علامات اورحجاب کی واضح اجازت دیتا ہے۔ یہ با اختیاربنانا نہیں ہے۔  یہ کلاس رومزمیں مذہبی شناخت کا ادارہ جاتی ہونا اورقدامت پسندی کی تہوں میں بچپن کو بتدریج دفن کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read