Urdu Conclave 2026

Karnataka CM

ڈی کے شیوکمارنے کرناٹک کے 25ویں وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لیا۔ پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سابق وزیراعلیٰ سدارامیا سمیت کئی دیگراہم لیڈران موجود تھے۔ یہ حلف برداری تقریب سدارامیا کے استعفیٰ کے بعد منعقد کی گئی۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا نے کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں صرف پہلے سے چلی آرہی روایات کو ہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نیا طریقہ متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت اس وقت شدید داخلی تنازعے اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ سِدّھارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی نے حکومت کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے ریاست میں اپنا جارحانہ سیاسی پلان شروع کرتے ہوئے کسانوں کو منظم کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کسان 9 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور بیلگاوی واقع ’سُورن سَودھا‘ کا گھیراؤ کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک بار پھر راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق حلفیہ بیان دیں یا اپنے ’’غلط‘‘ الزامات پر قوم سے معافی مانگیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کے ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں، ورنہ عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

اگرچہ شیوکمار سدارامیا کیمپ کی کسی میٹنگ کا حصہ نہیں رہے ہیں، لیکن تازہ ترین میٹنگ اس وقت ہوئی جب وہ خاندان کے ساتھ چھٹی گزارنے کے لیے ترکی میں تھے۔ یہ تازہ ترین میٹنگ میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی معاملے سے متعلق ایک تنازعہ میں سدارامیا کے الجھنے کے چار ماہ بعد ہوئی ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اب سی ایم سدارمیا کے خلاف زمین گھوٹالہ معاملے میں مقدمہ چلے گا۔حالانکہ سدارمیا کی جانب سے ہائی کورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ زمین ناہی ان کے نام سے ہے اور ناہی اس معاملے میں کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر پریانک کھرگے نے کہا کہ  ہمارے مطالبات میں  ٹیکسوں کی منتقلی شامل ہے، ہمیں خشک سالی سے نجات کی رقم نہیں مل رہی۔ مرکز کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کرناٹک ایک اقتصادی پاور ہاؤس ہے۔ ہم یہاں ٹیکسوں کی منتقلی پر ریاست کےلوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

سدارامیا حکومت نے کرناٹک کابینہ کی میٹنگ میں بی جے پی کے دور میں لائے گئے تبدیلی مذہب مخالف قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کے بی ہیڈگیوار سے متعلق باب کو کرناٹک کے نصاب سے خارج کرنے کے فیصلے کو بھی منظوری دی گئی ہے۔