بنگلورو: کرناٹک میں کانگریس حکومت اس وقت شدید داخلی تنازعے اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ سِدّھارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی نے حکومت کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے ریاست میں اپنا جارحانہ سیاسی پلان شروع کرتے ہوئے کسانوں کو منظم کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے صدر اور رکن اسمبلی بی وائی وجییندر نے اعلان کیا ہے کہ کسان 9 دسمبر سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کریں گے اور بیلگاوی واقع ’سُورن سَودھا‘ کا گھیراؤ کریں گے۔ یہ احتجاج اپنی مختلف زرعی مطالبات کو پیش کرتے ہوئے حکومت کے خلاف طاقتور پیغام دینے کی کوشش ہوگا۔
بی جے پی کا احتجاجی پلان تیار
پیر کے روز ملّینی سٹی گراؤنڈ میں احتجاجی مقام کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وجییندر نے بتایا کہ بیلگاوی کے ارکان اسمبلی، ایم ایل سی اور آس پاس کے اضلاع کے ہزاروں کسان اس مظاہرے میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق کم از کم 20 سے 25 ہزار افراد احتجاج میں شرکت کرنے کی امید ہے۔
کانگریس حکومت پر کسان مخالف پالیسیوں کا الزام
وجییندر نے کانگریس حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کی مشکلات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے مکئی کا ایم ایس پی 2,400 روپے مقرر کیا ہے، لیکن ریاستی حکومت نے خریداری مراکز وقت پر شروع نہیں کیے، جس کی وجہ سے کسانوں کو مجبوری میں 1,500 سے 1,600 روپے میں مال بیچنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے گنے، کپاس اور تور دال کے کاشتکاروں کے مسائل کو بھی سنگین قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت زرعی شعبے کی حالت بہتر کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
داخلی لڑائی سے ترقی متاثر: بی جے پی
بی جے پی کے مطابق کانگریس حکومت اپنی اندرونی لڑائیوں میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ ریاستی ترقی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر جاری رسہ کشی نے پالیسیوں پر عمل درآمد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وجییندر نے الزام لگایا کہ کانگریس ہر مسئلے میں مرکز کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کسانوں کے مسائل ہوں یا نوجوانوں کے روزگار کے وعدے، حکومت کہیں بھی اپنی ذمہ داری نبھاتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات کے دوران بے روزگاری ختم کرنے اور لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تک اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وہ بُنکروں کی پریشانیوں اور شمالی کرناٹک کی آبپاشی منصوبوں کا مسئلہ بھی اسمبلی میں زور شور سے اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کا کسانوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان
قائد حزبِ اختلاف آر اشوک نے بھی کسانوں کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپّا ہمیشہ کسان دوست رہے ہیں اور اسمبلی میں بھی کسانوں کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی بنیاد ہی تحریکوں پر قائم ہے اور کسانوں کی یہ لڑائی پوری مضبوطی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


