بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مرکزی بینک نے اپنے ذخائر سے تقریباً 35 ٹن سونا فروخت کر دیا ہے۔ آر بی آئی نے ان رپورٹس کو صرف بے بنیاد افواہ قرار دیا اور عوام سے کہا کہ صرف مصدقہ ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں۔
صرف سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں
پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ مرکزی بینک نے وضاحت دی ہے کہ اس نوعیت کی کوئی فروخت نہیں ہوئی اور عوام سے اپیل کی کہ صرف سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔آر بی آئی نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا کہ بھارتی ریزرو بینک نے پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کے ذریعے ان دعووں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ آر بی آئی نے اپنے ذخائر سے 35 ٹن سونا فروخت کیا ہے۔ آر بی آئی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں کے بارے میں خبردار کرتا ہے اور آر بی آئی سے متعلق کسی بھی معلومات کے لیے براہ کرم سرکاری ویب سائٹ پر جائیں۔
کئی مرکزی بینک اپنی سونے کی خریداری میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سونے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور غیر یقینی صورتحال ہے، کیونکہ کئی مرکزی بینک اپنی سونے کی خریداری میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتیں خاص طور پر امریکی ڈالر سے دور جانے کے لیے اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ رجحان 2022 میں مغربی ممالک کی جانب سے روس کے ریزرو اثاثے فریز کرنے کے بعد اور بھی تیز ہو گیا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، 31 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے تک آر بی آئی کے پاس موجود گولڈ ریزرو کی قدر بڑھ کر 101.72 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر میں گولڈ ریزرو کا حصہ تقریباً 15 فیصد تک بڑھ گیا ہے، جو کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر میں سونے کی حصہ داری دوگنی ہو گئی ہے، جو پہلے 7 فیصد تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
