Bharat Express DD Free Dish

Indian Currency

حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کاغذی کرنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ پولیمر نوٹ جاری ہونے کے بعد بھی موجودہ کاغذی نوٹ ان کے ساتھ ساتھ قانونی کرنسی کے طور پر گردش میں رہیں گے۔ آر بی آئی کے مطابق ملک کے مختلف خطوں کی آب و ہوا اور استعمال کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد ہی پولیمر نوٹوں کے وسیع پیمانے پر اجرا سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مقامی لیڈر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ویڈیو میں بی جے پی کے ضلع وزیر گوتم تیواری ایک کمرے کے اندر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں فرش پر پانچ سو روپے کے نوٹوں کی بڑی تعداد میں گڈیاں رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

آر بی آئی نے 2000 روپے کے نوٹوں سے متعلق تازہ اپڈیٹ جاری کیا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک 98.41 فیصد نوٹ واپس آ چکے ہیں، تاہم اب بھی 5669 کروڑ روپے مالیت کے نوٹ گردش میں موجود ہیں۔ گزشتہ دو مہینوں کے دوران صرف 148 کروڑ روپے کے نوٹ ہی واپس آئے ہیں۔

بھارتی روپے میں گزشتہ کچھ عرصے سے تیزی سے گراوٹ دیکھی جا رہی ہے اور یہ 91 کے لیول کو بھی چھو چکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا روپیہ 100 کے لیول تک پہنچ سکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ملک کی معیشت کے لیے کتنا بڑا خطرہ (رسک) ثابت ہو سکتا ہے۔

آر بی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 31 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے تک آر بی آئی کے پاس موجود گولڈ ریزرو کی قدر بڑھ کر 101.72 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

روپے کی گراوٹ کی وجہ سے درآمدات پر منحصر کاروبار کے لیے چیلنج بڑھے گا، کیونکہ ان پٹ لاگت میں اضافے کی وجہ سے منافع کے مارجن پر دباؤ پڑے گا۔ غیر ملکی کرنسی میں قرض لینے والی کمپنیوں کو واپسی کے زیادہ اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔

جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالا ہے، ہندوستان نے بہت سے دوسرے ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مضبوط اقتصادی ترقی کا تجربہ کیا ہے۔

جولائی میں، ہندوستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ ہندوستان یو اے ای کو ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی روپیوں میں ادائیگی کرسکتا ہے۔