Bharat Express DD Free Dish

Reserve Bank of India

بھارتی ریزرو بینک (RBI) کی جانب سے اپنے فارن کرنسی نان ریزیڈنٹ بینک (FCNR (B)) ڈپازٹ ونڈو کو بند کرنے کی تاریخ اچانک آگے بڑھانے کے فیصلے نے بینکنگ سیکٹر اور بازار کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی سے بازار میں پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کاغذی کرنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ پولیمر نوٹ جاری ہونے کے بعد بھی موجودہ کاغذی نوٹ ان کے ساتھ ساتھ قانونی کرنسی کے طور پر گردش میں رہیں گے۔ آر بی آئی کے مطابق ملک کے مختلف خطوں کی آب و ہوا اور استعمال کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد ہی پولیمر نوٹوں کے وسیع پیمانے پر اجرا سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

نئے ضوابط کے مطابق تمام بینکوں کو اپنی ویب سائٹ پر مختلف اقسام کے ڈپازٹس پر دی جانے والی شرحِ سود پہلے سے شائع کرنا ہوگی۔ ہر کاروباری دن صبح 10 بجے تک یہ شرحیں جاری کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 منٹ کی رعایت دی گئی ہے، تاہم ہر صورت میں صبح 10:10 بجے تک یہ معلومات دستیاب ہونی چاہئیں۔

آر بی آئی کے ضابطوں کے مطابق ملک بھر کے تمام بینک ہر مہینے کے دوسرے اور چوتھے ہفتے کے روز بند رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر اتوار کو بھی بینکوں میں تعطیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چونکہ مہینے کا پہلا ہفتہ ہے، اس لیے تمام بینک معمول کے مطابق کھلے ہوئے ہیں، جبکہ دوسرے اور چوتھے ہفتے کے روز بینکاری خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔

مرکزی حکومت نے پیر کے روز پارلیمنٹ کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے 10 روپے اور 20 روپے کے پولیمر کرنسی نوٹوں کے فیلڈ ٹرائل کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔

حکومت کے مطابق آر بی آئی فیلڈ ٹرائل کے تحت 10 روپے اور 20 روپے مالیت کے ایک ایک ارب پولیمر نوٹ جاری کرے گا۔ ان نوٹوں کو تجرباتی بنیاد پر بازار میں جاری کیا جائے گا تاکہ ہندوستانی حالات میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگر یہ ٹرائل کامیاب رہا تو ہی بڑے پیمانے پر پولیمر نوٹ جاری کرنے پر غور کیا جائے گا۔

بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے مزید کہا کہ اگر موجودہ عالمی بحران میں شدت آتی ہے اور حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو حکومت کے لیے ایندھن کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی لمبے عرصے تک برقرار رہی تو تیل کمپنیاں جلد ہی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

آر بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، اُس وقت ان کی کل مالیت 3.56 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو اب کم ہو کر 5,451 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

جہاں تک صارفین کے موجودہ پیسے کا سوال ہے تو اس حوالے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آر بی آئی نے واضح طور پر کہا ہے کہ صارفین اپنی رقم نکال سکتے ہیں یا ضرورت کے مطابق خرچ بھی کر سکتے ہیں۔