نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت 21ویں صدی کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک لینے جا رہا ہے، جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم ہوگا۔ وہ نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے مجوزہ خواتین ریزرویشن قانون کو ’’ناری شکتی‘‘ کے نام ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ماضی کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک قدم ہوگا بلکہ مستقبل کے عزم کو بھی مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے قریب ہے، جہاں سماجی انصاف محض نعرہ نہیں بلکہ حکمرانی کا حصہ بنے گا۔
چار دہائیوں پر محیط مطالبہ
مودی نے کہا کہ خواتین کو جمہوری اداروں میں مناسب نمائندگی دینے کا مطالبہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے جاری ہے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف نسلوں کا کردار رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طویل انتظار کا خاتمہ کیا جائے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کو مناسب حصہ دیا جائے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اس بل پر پارلیمنٹ میں 16، 17 اور 18 اپریل کو تفصیلی بحث ہوگی، اور امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس اہم قانون سازی کو آگے بڑھائیں گی۔
2029 تک نفاذ کا ہدف، سیاسی اتفاق رائے کی امید
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔ اس موقع پر دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر انپورنا دیوی بھی موجود تھیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ بھارت کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوگا اور خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کرے گا، جس سے ملک میں جمہوری عمل مزید مضبوط ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


