Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل نامنظور ہونے پر وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کی اپوزیشن پر سخت تنقید
واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔
Nari Shakti Vandan Adhiniyam: خواتین ریزرویشن بل پاس نہ ہونے پر منوج تیواری برہم، اپوزیشن پر خواتین کی توہین کا لگایا الزام
منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔
Women Empowerment: ’’خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت تاریخی قدم‘‘ وزیراعظم نریندر مودی کا خصوصی پارلیمانی اجلاس سے قبل اعلان
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
لوک سبھا میں اب ہوں گے 850 اراکین پارلیمنٹ، مرکزی حکومت نے تیار کیا پلان، خواتین ریزرویشن بل میں ہوگا یہ التزام
مرکزی حکومت نے لوک سبھا کی سیٹوں کوبڑھا کر 850 کرنے کی تجویزپیش کی ہے۔ اس میں ریاست کے لئے 815 سیٹوں اورمرکزکے زیرانتظام ریاستوں کے لئے 35 سیٹیں رکھی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 82 اور170 ہرمردم شماری کے بعد لوک سبھا اورریاستی قانون سازاسمبلیوں میں سیٹوں کی دوبارہ تقسیم کرنے کا التزام کرتے ہیں۔
PM Modi Letter Women Reservation: ناری شکتی کے نام پی ایم مودی کا جذباتی خط، خواتین ریزرویشن پر اعتماد کا اظہار، کہا — 2047 کے ہدف کے لیے خواتین کی قیادت ضروری
وزیراعظم مودی نے لکھا کہ 2047 تک "وکست بھارت" کا ہدف اسی وقت حاصل ہوگا، جب ملک کی نصف آبادی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں فعال کردار ادا کرے گی۔
Nari Shakti Vandan Act 33 Percent Reservation: ناری شکتی وندن: 70 کروڑ خواتین کی قیادت کا نیا باب، وزیر اعظم مودی نے 33 فیصد ریزرویشن کو قرار دیا تاریخی قدم
وزیر اعظم نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی جانب گامزن ہے جہاں مساوات اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جاری انتظار اب ختم ہونے کو ہے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
PM Modi on Women’s Reservation bill: ’’اکیسویں صدی کے بڑے فیصلوں میں شامل ہوگا خواتین ریزرویشن بل‘‘ وزیراعظم نریندر مودی کا ’’ناری شکتی‘‘ کے تئیں تاریخی اقدام
نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔
Nari Shakti Vandan: خواتین کو قیادت میں زیادہ مواقع دینا وقت کی ضرورت، خواتین کی شمولیت سے ہی ’’وکست بھارت‘‘ کا خواب ہوگا پورا: وزیراعظم
وزیراعظم نے کہا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی نئی سمت دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
Nari Shakti Vandan Sammelan: وزیراعظم نریندر مودی ’ناری شکتی وندن سمیلن‘ سے کریں گے خطاب، ملک کی ترقی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری پر زور
ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ کے پیش نظر اسی ماہ کی 16 تاریخ سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
Nari Shakti Vandan Adhiniyam: ناری شکتی وندن ایکٹ پر وزیراعظم مودی کی تمام جماعتوں سے اتحاد کی اپیل، 2029 کے انتخابات سے قبل نفاذ پر زور
وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور خواتین کی بااختیار بنانے کی اس تاریخی کوشش میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔





