نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی آج قومی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’ناری شکتی وندن سمیلن‘ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے اجلاس کا مقصد ملک کی ترقی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ کانفرنس پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک حکمرانی اور قیادت کے مختلف شعبوں میں خواتین کے کردار کو نمایاں کرے گی۔ پروگرام میں اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو مزید بڑھایا جائے۔
مختلف شعبوں کی نمایاں خواتین کی شرکت
سمیلن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کامیاب خواتین شرکت کریں گی، جن میں حکومت، تعلیم، سائنس، کھیل، صنعت، میڈیا، سماجی خدمات اور ثقافت سے وابستہ شخصیات شامل ہوں گی۔ اس موقع پر 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر میں خواتین کے کردار کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ’ناری شکتی وندن سمیلن‘ سے خطاب کو خواتین کی سیاسی و سماجی شمولیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے پروگرام نہ صرف خواتین کی نمائندگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پالیسی سازی میں ان کے کردار کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
ناری شکتی وندن ادھینیم کا پس منظر
واضح رہے کہ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ کے پیش نظر اسی ماہ کی 16 تاریخ سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ ناری شکتی وندن ادھینیم کے نفاذ پر زور دینے سے آنے والے برسوں میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو ملک کے جمہوری ڈھانچے کو مزید متوازن اور جامع بنا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے خواتین کو قیادت کے مواقع ملیں گے، جس کے نتیجے میں معاشی، سماجی اور تعلیمی شعبوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کے حصول میں خواتین کا کردار مزید مستحکم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


