Bharat Express DD Free Dish

Gender Equality

وزیراعظم نے خواتین کی قیادت میں ترقی کو این ڈی اے حکومت کی ترجیح قرار دیا۔ اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں آج اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور مہارتوں کے ذریعے بھارت کا وقار بلند کر رہی ہیں اور ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

میجر ابھلاشا براک کو یہ ایوارڈ امن مشنز میں خواتین کے کردار، نمائندگی اور نقطۂ نظر کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق میجر براک نے مقامی برادریوں کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے شہریوں کی حفاظت کو مضبوطی ملی۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے میں مزید تاخیر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا پارلیمانی اجلاس اس سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور آنے والی نسلیں اسے ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھیں گی۔

نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے 2029 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ قدم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی تعاون سے مکمل کیا جائے، تاکہ ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی نئی سمت دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ کے پیش نظر اسی ماہ کی 16 تاریخ سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور خواتین کی بااختیار بنانے کی اس تاریخی کوشش میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

حکومت نے خواتین ریزرویشن بل پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جو ملک میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کی سیاسی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔