Bharat Express DD Free Dish

Census To Be Conducted In Two Phases-Says Government : ملک میں اگلی مردم شماری کب ہوگی؟ وزارتِ داخلہ نے لوک سبھا میں دی تفصیلی جانکاری، راہل گاندھی کے سوال پر ختم ہوا سسپنس

مرکزی وزارتِ داخلہ نے لوک سبھا میں واضح کر دیا ہے کہ ملک کی آئندہ مردم شماری سال 2027 میں دو مراحل میں منعقد کی جائے گی۔ وزارت نے یہ تاریخیں اُس وقت سامنے رکھیں جب کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مردم شماری کی تیاریوں اور وقت بندی سے متعلق اہم سوالات پوچھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں آخری مردم شماری سال 2011 میں کی گئی تھی۔

مرکزی وزارتِ داخلہ نے لوک سبھا میں واضح کر دیا ہے کہ ملک کی آئندہ مردم شماری سال 2027 میں دو مراحل میں منعقد کی جائے گی۔ وزارت نے یہ تاریخیں اُس وقت سامنے رکھیں جب کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مردم شماری کی تیاریوں اور وقت بندی سے متعلق اہم سوالات پوچھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں آخری مردم شماری سال 2011 میں کی گئی تھی۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکانات کی گنتی پر مشتمل ہوگا، جو اپریل 2026 سے ستمبر 2026 کے درمیان 30 روز کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ، یعنی آبادی کی گنتی، فروری 2027 میں شروع ہوگا۔ تاہم لداخ، جموں و کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش جیسے پہاڑی علاقوں میں یہ گنتی ستمبر 2026 سے اکتوبر 2026 کے درمیان کرائی جائے گی۔ وزارت کے مطابق مردم شماری کے لیے ریفریس ڈیٹ ملک بھر میں یکم مارچ 2027 کی رات 12 بجے مقرر کی گئی ہے۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے نے راہل گاندھی کے تحریری سوال کے جواب میں بتایا کہ مردم شماری کے دونوں مراحل—مکانات کی گنتی اور آبادی کی گنتی—کے لیے تیاریاں طے شدہ شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

راہل گاندھی نے کیا پوچھا؟
راہل گاندھی نے وزارتِ داخلہ سے تین بنیادی سوالات کیے، جن میں سے ایک اہم سوال مردم شماری کی تیاریوں اور اس کے پروگرام کی وقت بندی سے متعلق تھا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ ’’دہائی وار مردم شماری کے لیے کن بنیادی کارروائیوں کی ضرورت ہے اور ان کی مجوزہ ٹائم لائن کیا ہے؟‘‘ وزارت نے جواب میں تمام مراحل اور تاریخوں کی تفصیل پیش کی۔ وزارت کے جواب کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس نہ کوئی واضح خاکہ ہے، نہ وقت بند منصوبہ، نہ ہی پارلیمنٹ یا عوام کے ساتھ کوئی موثر گفتگو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت دوسرے ریاستوں میں کامیاب ذات پر مبنی سروے سے بھی کوئی سبق لینے کو تیار نہیں اور یہ رویہ ’’ملک کے بہوجن طبقے کے ساتھ کھلا دھوکہ‘‘ ہے۔

مردم شماری کیوں ہوئی تاخیر کا شکار؟
بھارت میں دہائی وار مردم شماری کا سلسلہ 1951 سے جاری ہے۔ پہلی مردم شماری پنڈت جواہر لعل نہرو کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ آخری مردم شماری 2011 میں مکمل کی گئی تھی۔ اصولاً 2021 میں اگلی مردم شماری ہونی تھی، لیکن کووِڈ-19 عالمی وبا کے باعث پوری مشق ملتوی کر دی گئی۔ اس کے بعد مسلسل تاخیر کے باعث اپوزیشن نے حکومت کو کئی بار نشانے پر لیا اور ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی اس بحث نے مزید تیز کیا۔ اب وزارتِ داخلہ کے سرکاری اعلان کے ساتھ یہ واضح ہو گیا ہے کہ ملک کی اگلی مردم شماری 2027 میں ہی مکمل کی جائے گی، جس کے نتائج آئندہ اقتصادی و سماجی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read