Bharat Express DD Free Dish

Cast Census

سماجوادی پارٹی کے قومی صدراور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے مزید لکھا کہ آج بی جے پی پربھروسہ کرنے والے اپنے کو ٹھگا ہوا نہیں بلکہ بہت توہین محسوس کررہے ہیں۔

مرکزی وزارتِ داخلہ نے لوک سبھا میں واضح کر دیا ہے کہ ملک کی آئندہ مردم شماری سال 2027 میں دو مراحل میں منعقد کی جائے گی۔ وزارت نے یہ تاریخیں اُس وقت سامنے رکھیں جب کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مردم شماری کی تیاریوں اور وقت بندی سے متعلق اہم سوالات پوچھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں آخری مردم شماری سال 2011 میں کی گئی تھی۔

دراصل مرکزی حکومت نے پیر کو مردم شماری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ گزٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری کا عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ 16 جون، پیر کے روز مردم شماری کے ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے بڑا دعویٰ ہے۔

میٹنگ ختم ہونے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ وقت ضائع کیے بغیر ذات پات کی مردم شماری مقررہ مدت کے اندر کرائی جائے۔ تاکہ فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت ہو۔

این ڈی اے کے اتحادی ٹی ڈی پی بھی ذات پات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کررہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ٹی ڈی پی بھی یہ چاہتی ہے کہ ملک بھر میں کاسٹ سینسس ہو، اور اس معاملے میں وہ جےڈی یو کے ساتھ ہے۔ حالانکہ ان دونوں اتحادیوں کا دباو کتنا کام آئے گا ،یہ وقت بتائے گا۔

اس سال مارچ میں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے پہلے قدم کے طور پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کی سفارش کی تھی جس کے بعد 100 دنوں کے اندر مقامی باڈی انتخابات کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔

بہارحکومت کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر غریب درج فہرست ذاتوں میں شامل ہیں۔ ایس سی کمیونٹی کی 42.93 فیصد آبادی غریب ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر ہم درج فہرست قبائل کی بات کریں تو اس برادری کے 42.70 فیصد خاندان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

دیوریا قتل کیس میں کہا گیا کہ یہ واقعہ دیوریا میں دونوں خاندانوں میں پیش آیا۔ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ قصور کس کا ہے۔ بی جے پی پارٹی کو دونوں خاندانوں سے تعزیت کرنی چاہیے۔

راہل گاندھی نے کہا، 'ملک میں او بی سی، دلتوں اور قبائلیوں کی صورتحال سے متعلق سچ جاننے کے لیے ہم مرکزی حکومت کو ذات کی مردم شماری کرانے پر مجبور کریں گے۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ہماری حکومتوں نے اس کے لیے عمل شروع کر دیا ہے۔