Bharat Express DD Free Dish

Census 2027

مردم شماری کے عمل سے 15 دن قبل شہریوں کے لیے خود اندراج (Self Enumeration) کی سہولت شروع ہو جائے گی، جس کے تحت لوگ اپنی سہولت کے مطابق وقت پر اپنی تفصیلات درج کرسکیں گے۔ اس عمل کے مکمل ہونے پر ایک خصوصی آئی ڈی فراہم کی جائے گی، جسے بعد میں تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

بھارت کی مردم شماری 2027 ملک کی پہلی مکمل طور پر ’ڈیجیٹل مردم شماری‘ ہوگی۔ اس میں موبائل کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا جائے گا، جس سے درست اور تفصیلی معلومات حاصل ہوں گی اور بہتر پالیسی بنانے میں مدد ملے گی۔ ہفتہ کے روز ایک سرکاری فیکٹ شیٹ میں یہ معلومات دی گئی۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ درست اور ضروری معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی مردم شماری کی ٹیمیں گھر گھر جا کر اعداد و شمار جمع کریں گی، اس لیے عوامی تعاون نہایت ضروری ہے۔

یہ پورٹل انگریزی، ہندی سمیت 14 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور اس معلومات کو صرف شماریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدراور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے مزید لکھا کہ آج بی جے پی پربھروسہ کرنے والے اپنے کو ٹھگا ہوا نہیں بلکہ بہت توہین محسوس کررہے ہیں۔

مودی حکومت نے 2027 کی مردم شماری کے لیے 11,718 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلی بار یہ مردم شماری ڈیجیٹل ہوگی۔ اس میں ذات کی گنتی بھی شامل ہوگی۔ کابینہ نے ایم ایس پی کوپرا بھی بڑھا دیا ہے۔

مرکزی وزارتِ داخلہ نے لوک سبھا میں واضح کر دیا ہے کہ ملک کی آئندہ مردم شماری سال 2027 میں دو مراحل میں منعقد کی جائے گی۔ وزارت نے یہ تاریخیں اُس وقت سامنے رکھیں جب کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مردم شماری کی تیاریوں اور وقت بندی سے متعلق اہم سوالات پوچھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں آخری مردم شماری سال 2011 میں کی گئی تھی۔

دراصل مرکزی حکومت نے پیر کو مردم شماری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ گزٹ میں بتایا گیا ہے کہ مردم شماری کا عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ 16 جون، پیر کے روز مردم شماری کے ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے بڑا دعویٰ ہے۔