نئی دہلی: مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے ایبولا وائرس بیماری کے حوالے سے ایک اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے اور صحت سے متعلق رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ 2 جون 2026 تک بھارت میں ایبولا وائرس کا کوئی مصدقہ کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم عالمی سطح پر بعض علاقوں میں اس بیماری کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جو گزشتہ 21 دنوں کے دوران ایبولا سے متاثرہ کسی ملک کا سفر کرکے بھارت واپس آئے ہیں یا ایسے ممالک سے گزرے ہیں، انہیں اپنی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اگر ایسے افراد میں بخار، شدید سر درد، جسم یا پٹھوں میں درد، قے، دست یا کسی واضح وجہ کے بغیر خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو انہیں فوری طور پر خود کو دوسروں سے الگ کر لینا چاہیے اور قریبی صحت حکام کو مطلع کرنا چاہیے۔
وزارت نے کہا کہ بروقت اطلاع اور فوری طبی جانچ نہ صرف مریض کی جلد تشخیص اور علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکام کے مطابق کسی بھی مشتبہ علامت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے عوام کو مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا ایک نہایت سنگین اور بعض صورتوں میں جان لیوا متعدی بیماری ہے، جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہو سکتی ہے۔ خون، پسینہ، تھوک اور دیگر جسمانی اخراجات کے ساتھ براہِ راست رابطہ اس وائرس کے پھیلنے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ بیماری کے ابتدائی مراحل میں علامات عام بخار سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، جس کے باعث کئی بار مریض یا اہل خانہ اس کی سنگینی کو فوری طور پر نہیں سمجھ پاتے۔
⚠️ Health Advisory on Ebola Disease
As on 2nd June, 2026, there are no cases of Ebola disease reported in the country.However, if you have travelled from or transited through an Ebola-affected country in the last 21 days and develop symptoms such as fever, headache, muscle… pic.twitter.com/dSn8w7J1WM
— Ministry of Health (@MoHFW_INDIA) June 2, 2026
طبی ماہرین کے مطابق بیماری بڑھنے کی صورت میں مریض کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ شدید کمزوری، مسلسل قے، پانی کی کمی اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنے کی شکایات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور مختلف ممالک کی حکومتیں ایبولا کے مشتبہ کیسز کی فوری شناخت اور نگرانی پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ وزارتِ صحت نے عوام کی سہولت کے لیے اپنی 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن فعال ہیلپ لائن سروس کا بھی ذکر کیا ہے۔ وزارت کے مطابق شہری ایبولا سے متعلق معلومات، مشورے یا کسی بھی قسم کی مدد حاصل کرنے کے لیے قومی ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کی ٹیم شہریوں کی رہنمائی اور ضروری معلومات فراہم کرنے کے لیے ہر وقت دستیاب ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سفر میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلنے والی متعدی بیماریوں پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ اگرچہ بھارت میں فی الحال ایبولا کا کوئی کیس موجود نہیں، لیکن ممکنہ خطرات کے پیش نظر نگرانی کا نظام فعال رکھا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزارتِ صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا غیر مصدقہ ذرائع سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں۔ وزارت کے مطابق عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت رپورٹنگ اور طبی مشوروں پر عمل ہی ایبولا جیسی خطرناک متعدی بیماریوں سے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ حکام نے یقین دلایا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



