Bharat Express DD Free Dish

Congress will oppose FCRA Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کرے گی کانگریس، اپوزیشن جماعتیں پیر کو بل پر کریں گی مشاورت:ملکارجن کھڑگے

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

رودرپور: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ کانگریس غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ترمیمی بل کی مخالفت کرے گی اور اس معاملے پر پیر کو اپوزیشن جماعتوں کے فلور لیڈروں کی میٹنگ میں بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ان کا اتراکھنڈ کا دورہ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے مقصد سے ہے۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آخری ہفتے میں لوک سبھا میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کھڑگے نے ہفتے کو ہلدوانی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اپنے دورے کے دوران وہ آج رودرپور میں نو مقرر کردہ ریاستی اور ضلعی صدور سے بھی ملاقات کریں گے۔ کھڑگے نے کہا، ’’ہم ایف سی آر اے سے متعلق اقدام کی مخالفت کریں گے۔ حکمت عملی کے بارے میں کل فلور لیڈروں کی میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

اگلے انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا دعویٰ

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کے کارکن اتراکھنڈ میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’میں اے آئی سی سی کا صدر ہوں۔ میں یہاں ہر روز نہیں آ سکتا، لیکن ہماری ٹیم یہاں موجود ہے۔ کیا وزیر اعظم مودی یہاں ہر روز آتے ہیں؟ کیا امت شاہ یہاں آتے ہیں؟ کیا نڈا، جو اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں، یہاں آتے ہیں؟ کیا بی جے پی کے نئے صدر یہاں آتے ہیں؟ ہم ضرورت کے مطابق پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے وہاں جاتے ہیں جہاں اور جب ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سیاحوں کی طرح آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔‘‘ ہلدوانی میں ہفتے کو اپنی تقریر کے دوران کھڑگے نے اعتماد ظاہر کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس اتراکھنڈ میں حکومت تشکیل دے گی۔ انہوں نے دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اتراکھنڈ میں مندر کے عطیات، بے روزگاری، بھرتی امتحانات اور پیپر لیک سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے مسائل بھی اٹھائے۔

متعدد اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالف

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایف سی آر اے ترمیمی بل کے حوالے سے خدشات

اس سے قبل میزورم کے وزیراعلیٰ لال دوہوما نے جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور ایف سی آر اے ترمیمی بل کے حوالے سے سفارشات اور علاقائی خدشات پیش کیے۔ بعد میں لال دوہوما نے کہا کہ انہوں نے شاہ کے سامنے چھ نکات اٹھائے۔ ان کے مطابق انہیں واضح یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ بل کے دفعات کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر نکات پر امت شاہ کی جانب سے پیراگراف وار جواب دیا جائے گا اور 12 اگست سے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث شروع کی جائے گی۔ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں عیسائی برادری کے ارکان اور نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے بل کی بعض دفعات پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے ہفتے کو مرکزی حکومت سے ایف سی آر اے ترمیمی بل واپس لینے اور غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 کی دفعہ 15 منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسٹالن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جوائنٹ ایکشن فورم آن مائنارٹیز کے ایک وفد نے، جس کی قیادت ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا رکن پی ولسن کر رہے تھے اور جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنما شامل تھے، 6 اگست کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ این سی پی (ایس پی) نے بھی بل کی مخالفت کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read