FCRA Amendment Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیے جانے کا امکان، اپوزیشن اور عیسائی تنظیموں کے اعتراض کے بعد حکومت نے اٹھایا بڑا قدم
اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ عیسائی تنظیموں نے بھی اس کی بعض دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بل فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم سے متعلق ہے، جو ہندوستان میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی عطیات وصول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔
Tamil Nadu Assembly: تمل ناڈو اسمبلی میں مرکزی حکومت کے ایف سی آر اے بل کے خلاف متفقہ قرارداد منظور
تمل ناڈو حکومت نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور غیر ملکی عطیات کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی مخالف نہیں ہے۔ راج موہن نے کہا کہ ریاستی حکومت قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کی تشویش یہ ہے کہ مجوزہ ترامیم کا جائز تعلیمی، طبی، فلاحی اور سماجی اداروں پر غیر ضروری منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
Congress will oppose FCRA Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کرے گی کانگریس، اپوزیشن جماعتیں پیر کو بل پر کریں گی مشاورت:ملکارجن کھڑگے
متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
Concerns Regarding FCRA Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل پر عیسائی برادری کے تحفظات، ایک ماہ میں دوسری بار وزیرداخلہ امت شاہ سے ہوگی ملاقات
حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مقصد بیرونِ ملک سے آنے والے فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ یا عطیات کا استعمال ملک کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔ اس وقت ہندوستان میں کوئی بھی این جی او، سوسائٹی، ٹرسٹ یا ادارہ اگر بیرونی فنڈ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایف سی آر اے رجسٹریشن کرانا ضروری ہوتا ہے، جس کی ہر پانچ سال بعد تجدید بھی لازم ہے۔





