Bharat Express DD Free Dish

FCRA Bill

مانسون اجلاس میں غیر ملکی عطیات ترمیمی بل 2026 کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی۔ ہنگامے اور احتجاج کے بعد بل کو 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو سرمائی اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کا ریاستی مفادات، سماجی انصاف اور تعلیمی حقوق کے نام پر مرکز کو دو ٹوک پیغام۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل واپس لینے اور تمل ناڈو میں نیٹ ختم کرنے کا مطالبہ۔ کمل ہاسن نے بھی دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

تمل ناڈو حکومت نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور غیر ملکی عطیات کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی مخالف نہیں ہے۔ راج موہن نے کہا کہ ریاستی حکومت قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کی تشویش یہ ہے کہ مجوزہ ترامیم کا جائز تعلیمی، طبی، فلاحی اور سماجی اداروں پر غیر ضروری منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیر کے روز لوک سبھا میں 4 اہم بل پیش کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ امت شاہ ’کیرالا‘ کا نام تبدیل کرکے ’کیرالم‘ کرنے سے متعلق بل اور این سی ڈی سی بل پیش کریں گے۔ وہیں، ایف سی آر اے بل فی الحال کل کی کارروائی کی فہرست سے باہر ہے۔

متعدد اپوزیشن جماعتوں نے ایف سی آر اے ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا تھا کہ پارٹی اس بل کی شدید مخالفت کرے گی اور ’’حکومت اس طرح کے بل کو زبردستی منظور نہیں کرا سکتی۔‘‘ یہ بل غیر ملکی عطیات (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد غیر ملکی عطیات کے ضابطے میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مقصد بیرونِ ملک سے آنے والے فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ یا عطیات کا استعمال ملک کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔ اس وقت ہندوستان میں کوئی بھی این جی او، سوسائٹی، ٹرسٹ یا ادارہ اگر بیرونی فنڈ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایف سی آر اے رجسٹریشن کرانا ضروری ہوتا ہے، جس کی ہر پانچ سال بعد تجدید بھی لازم ہے۔