Bharat Express DD Free Dish

FCRA Bill 2026: فیصلہ سرمائی اجلاس تک موخر! جے پی سی کو بھیجا گیا ایف سی آر اے بل، 31 ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی کرے گی فیصلہ

مانسون اجلاس میں غیر ملکی عطیات ترمیمی بل 2026 کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی۔ ہنگامے اور احتجاج کے بعد بل کو 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو سرمائی اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مانسون اجلاس کے دوران فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA Bill 2026) کو لے کر پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید سیاسی گھمسان دیکھنے کو ملا۔ زبردست ہنگامے اور اپوزیشن کی سخت مخالفت کے بعد مرکزی حکومت نے متنازع بل کو مزید تفصیلی جائزے کے لیے 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کمیٹی بل کی مختلف دفعات کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ 2026 کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے تک پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

لوک سبھا میں وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے جیسے ہی FCRA بل کو JPC کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی، اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت جان بوجھ کر یہ بل لا رہی ہے اور اپوزیشن اس کی مکمل مخالفت کر رہا ہے۔دوسری جانب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ بل کسی بھی طرح اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کا مقصد غیر ملکی عطیات کے استعمال میں شفافیت اور جواب دہی کو مضبوط کرنا اور غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال پر قابو پانا ہے۔

آخر FCRA بل پر اتنا ہنگامہ کیوں؟

25 مارچ 2026 کو پیش کیے گئے اس بل کی ایک اہم شق کو لے کر سب سے زیادہ تنازع پیدا ہوا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کسی این جی او، ٹرسٹ یا مذہبی ادارے کی FCRA رجسٹریشن منسوخ ہو جاتی ہے یا ادارہ اپنی رجسٹریشن واپس کر دیتا ہے تو غیر ملکی عطیات سے حاصل کی گئی اس کی تمام جائیدادیں ایک سرکاری اتھارٹی کے ماتحت جا سکتی ہیں۔اگرچہ بل میں زیادہ سے زیادہ سزا کی مدت کو پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، لیکن اپوزیشن اور بعض تنظیموں کو خدشہ ہے کہ جائیدادوں سے متعلق مجوزہ اختیارات سے انتظامیہ کو وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اختیارات کے استعمال سے پہلے مناسب قانونی تحفظ، شفاف طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

31 رکنی کمیٹی کرے گی تفصیلی جانچ

اپوزیشن کے شدید احتجاج اور مختلف حلقوں کے اعتراضات کے بعد اب FCRA بل کی تفصیلی جانچ JPC کرے گی۔ اس مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان، یعنی مجموعی طور پر 31 ارکان شامل ہوں گے۔کمیٹی بل کی دفعات، ان کے ممکنہ قانونی اور انتظامی اثرات اور متعلقہ فریقوں کے اعتراضات کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد اپنی سفارشات پر مشتمل رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

سرمائی اجلاس تک مؤخر ہوا فیصلہ

ایف سی آر اے بل کا مستقبل اب چند ماہ کے لیے JPC کے پاس چلا گیا ہے۔ کمیٹی کو 2026 کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے تک اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ اس کے بعد حکومت اور پارلیمنٹ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بل پر مزید کارروائی کر سکیں گے۔یوں غیر ملکی عطیات کے ضابطے کو مزید سخت بنانے کی کوشش سے متعلق یہ متنازع بل فی الحال پارلیمانی جانچ کے مرحلے میں پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس کی دفعات کو لے کر سیاسی کشیدگی برقرار رہنے کے امکانات ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read