Urdu Conclave 2026

Parliament Monsoon Session 2026

مانسون اجلاس میں غیر ملکی عطیات ترمیمی بل 2026 کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی۔ ہنگامے اور احتجاج کے بعد بل کو 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو سرمائی اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

امت شاہ نے اپوزیشن سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے تک اسپیکر کو خط دے دیں، حکومت 3 بجے سے بحث شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ اگلے دن 3 بجے تک تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہے کہ وہ بحث چاہتی ہے یا ہنگامہ۔یہ بیان نیٹ پیپر لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ سخت کارروائی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیر کے روز لوک سبھا میں 4 اہم بل پیش کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ امت شاہ ’کیرالا‘ کا نام تبدیل کرکے ’کیرالم‘ کرنے سے متعلق بل اور این سی ڈی سی بل پیش کریں گے۔ وہیں، ایف سی آر اے بل فی الحال کل کی کارروائی کی فہرست سے باہر ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے لیے ضروری کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کے حقوق اور آزادی کے اس نظریے کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ خواتین کو ان معاملات میں واپس لایا جائے جہاں ان کی موجودگی ضروری ہے اور انہیں اپنی بات کہنے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے پارلیمنٹ کے شیڈول سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ تو مانسون اجلاس کی تاریخوں میں تبدیلی کی کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی خصوصی اجلاس بلانے کی کوئی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں پر فی الحال روک لگ گئی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ شیڈول میں کوئی بڑا ردوبدل کرنے جا رہی ہے۔

ادھر لوک سبھا میں بھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث وہاں بھی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے ضابطہ 267 کے تحت بحث کرانے کے لیے دیے گئے نوٹس پر اصرار کیا، تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ ان نوٹسز کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ارکان ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے احتجاج کرتے نظر آئے،

اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے اور جو بھی افراد قصوروار پائے جائیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، خواہ ان کا عہدہ یا سیاسی حیثیت کچھ بھی ہو۔ پپو یادو نے احتجاج میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی چندے کے استعمال کے بارے میں جواب دہی طے ہونا ضروری ہے۔یہ احتجاج پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی اس وسیع مہم کا حصہ تھا،

چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے رول 267 کے تحت بحث کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مطالبے پہلے بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین کے آسن کے قریب پہنچ گئے اور مسلسل نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔

کرن رجیجو نے مزید کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ سے متعلق قواعد حکومت نے نہیں بنائے بلکہ یہ پارلیمانی ضابطوں کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق، "اگر آپ پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے تو ہم پوری توجہ سے آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، لیکن آپ نے بار بار ایسے الفاظ استعمال کیے جن پر اعتراض ہے۔ اس کے باوجود ہم نے آپ کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے دسویں، بارہویں اور نیٹ  سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلسل بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی جان گنوائی، اور متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا۔