لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کی تقریر پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے سخت اعتراض کیا۔بحث کے دوران راہل گاندھی نے مبینہ طور پر “بے وقوف” اور “اندھ بھکت” جیسے الفاظ استعمال کیے، جس کے بعد ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ برسراقتدار اتحاد کے ارکان نے ان الفاظ کو پارلیمانی وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔کرن رجیجو نے کہا، “راہل گاندھی نے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ہے، جس کے باعث حکمراں جماعت کے ارکان میں ناراضی پیدا ہوئی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ سے متعلق قواعد حکومت نے نہیں بنائے بلکہ یہ پارلیمانی ضابطوں کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق، “اگر آپ پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے تو ہم پوری توجہ سے آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، لیکن آپ نے بار بار ایسے الفاظ استعمال کیے جن پر اعتراض ہے۔ اس کے باوجود ہم نے آپ کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔”مرکزی وزیر نے راہل گاندھی سے اپیل کرتے ہوئے کہا، “آپ قائدِ حزب اختلاف ہیں، اس لیے ایسی صورتحال پیدا نہ کریں جس سے ایوان کا ماحول خراب ہو۔ اسپیکر نے بھی اس معاملے کا ذکر کیا ہے۔”
کرن رجیجو نے کانگریس کو ماضی کے واقعات بھی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث کے دوران بھی اپوزیشن نے وزیر اعظم کو بولنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے ارکان وزیر اعظم کی نشست کے قریب تک پہنچ گئے تھے اور متعدد مواقع پر انہیں اپنی بات مکمل کرنے نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا، “ایوان میں ایسے حالات آپ ہی نے پیدا کیے۔ ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ آپ اپنی تقریر ضرور کریں، لیکن ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جو پارلیمانی روایات کے منافی ہوں۔”ہنگامے کے دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کی تقریر میں استعمال کیے گئے مبینہ غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کیا جائے۔کافی دیر تک شور شرابہ جاری رہنے کے بعد اسپیکر نے ایوان کی صورتحال واضح کی اور بعد میں راہل گاندھی کو دوبارہ اپنی بات رکھنے کا موقع دیا، جس کے بعد کارروائی آگے بڑھ سکی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

