نئی دہلی : پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کی مدت میں توسیع اور اس کے بعد خصوصی اجلاس بلائے جانے سے متعلق گزشتہ چند دنوں سے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ مرکزی حکومت خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی (ڈی لمٹیشن) جیسے اہم معاملات پر بحث کے لیے موجودہ مانسون اجلاس کی مدت بڑھا سکتی ہے یا پھر یومِ آزادی کے بعد 16 سے 18 اگست کے درمیان پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اب حکومت نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے صورتحال واضح کر دی ہے۔مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ فی الحال حکومت کے سامنے مانسون اجلاس کی مدت میں توسیع کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خواتین کے ریزرویشن بل یا ڈی لمٹیشن بل پر بحث کے لیے 16 سے 18 اگست کے درمیان کسی خصوصی اجلاس کی بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔
افواہوں پر حکومت کا واضح جواب
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے پارلیمنٹ کے شیڈول سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ تو مانسون اجلاس کی تاریخوں میں تبدیلی کی کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی خصوصی اجلاس بلانے کی کوئی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں پر فی الحال روک لگ گئی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ شیڈول میں کوئی بڑا ردوبدل کرنے جا رہی ہے۔
13 اگست تک جاری رہے گا مانسون اجلاس
حکومت کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی 2026 کو شروع ہوا تھا اور 13 اگست 2026 کو ختم ہونا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اجلاس اسی مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔ حکومت کے تازہ موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ فی الحال نہ اجلاس کی مدت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی آزادیِ ہند کے بعد خصوصی اجلاس بلانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
اپوزیشن کے ہنگامے کے باوجود کئی اہم بل منظور
اس مرتبہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور ہنگامے کے باعث بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ متعدد مواقع پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی متاثر ہوئی اور دونوں ایوانوں کو بار بار ملتوی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود حکومت کئی اہم قانون سازی کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہی ہے۔ان میں سرکاری امتحانات میں نقل اور پیپر لیک پر روک لگانے سے متعلق اینٹی پیپر لیک قانون، وندے ماترم کے احترام سے متعلق بل، پیدائش و اموات کے رجسٹریشن سے متعلق ترمیمی قانون، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) سے متعلق ترمیم اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے والا ترمیمی بل شامل ہیں۔حکومت کے اس تازہ بیان کے بعد خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے معاملات پر خصوصی اجلاس کے ذریعے فوری بحث کی امیدیں فی الحال ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

