Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor: ’حملے سے پہلے پاکستان کو خود ہی دے دی جانکاری، یہ سفارت کاری نہیں، جاسوسی ہے‘، راہل گاندھی اورکانگریس کا مودی حکومت سے بڑا سوال

کانگریس نے آپریشن سندورسے متعلق مرکزی حکومت کو گھیرا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی پر سوال کیا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی۔ (فائل فوٹو)

Rahul Gandhi and Congress On Operation Sindoor: نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیرخارجہ ایس جے شنکراورمرکزکی مودی حکومت پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس جے شنکرخود بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردانہ ٹھکانوں پرحملہ کرنے سے پلے انہوں نے پاکستان کومطلع کردیا تھا۔ یہ سفارت کاری نہیں، مخبری ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ خبرآئی تھی کہ کچھ جاسوس گرفتارکئے گئے ہیں، لیکن پھرلیپا پوتی شروع ہوگئی۔

راہل گاندھی نے وزیرخارجہ ایس جے شنکر سے سوال کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے پاکستان کوجانکاری دینے کی وجہ سے کتنے ہندوستانی طیارے کھوئے ہیں؟ یہ ایک جرم ہے اور ملک کو سچائی پتہ چلنی چاہئے۔” حال ہی میں راہل گاندھی نے وزیرخارجہ کے ایک بیان سے متعلق سوال اٹھایا تھا کہ آپریشن سندور کی جانکاری پاکستان کو پہلے کیوں دی گئی؟ حالانکہ وزارت خارجہ نے اس بیان پر بیان جاری کرکے کہا تھا کہ راہل گاندھی غلط حقائق پیش کررہے ہیں۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے مرکزی حکومت کو گھیرا

پون کھیڑا نے بھی مرکزی حکومت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا،  ”کل خبرآئی کہ کچھ جاسوس گرفتار کئے گئے ہیں اور پھر لیپا پوتی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ کیا مخبری ہو رہی ہے۔ مودی جی جب گجرات میں وزیراعلیٰ تھے تو کہتے تھے کہ پریشانی بارڈرپرنہیں ہے، پریشانی دہلی میں ہے۔ یہی ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ پریشانی دہلی میں ہے۔”

سوال نہیں پوچھا تو پلوامہ اورپہلگام جیسے حادثات ہوں گے: پون کھیڑا 

ایس جے شنکر کے بیان کی بحث پاکستان میں بھی ہو رہی ہے۔ ہمارے ملک کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں ہماری ہنسی اڑرہی ہے۔ راہل گاندھی اسی لئے یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہیں کہ حساس سوالوں پر اپوزیشن خاموش رہے گا، لیکن ہم سوال ضرور پوچھیں گے۔ نہں توپلوامہ اور پہلگام جیسے حادثات ہوتے رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read