Bharat Express DD Free Dish

S Jaishankar

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پاکستان کو اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا۔ جب ایک پاکستانی صحافی نے پریس بریفنگ کے دوران بھارت پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سوال پوچھنے کی کوشش کی، تو ڈاکٹر جے شنکر نے انہیں ایک ہی جملے سے لاجواب کر دیا: "ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہی ہے۔"

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی ووٹر فہرست سے میچ نہیں ہو سکا تھا۔ایسے زیادہ تر معروف ووٹر نئی دہلی اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری ہونے کا مطلب ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔

ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صدر زیلنسکی سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے زیلنسکی کو آگاہ کیا۔ جے شنکر کے مطابق ملاقات میں جاری جنگ کے خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر خصوصی توجہ رہی۔

اعلیٰ تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور صلاحیت سازی سمیت ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور۔  آئی آئی ٹی زنجبار کو ہندوستان اور افریقہ کی تعلیمی شراکت داری کی بہترین مثال قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان ممالک کے ساتھ بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورۂ ہند کے موقع پر نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے میں قومی دن کی ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم پر دونوں ممالک نے زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان 26 مئی کو کواڈ ممالک ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا۔ اجلاس میں انڈو پیسیفک کی بدلتی سکیورٹی صورتحال اور مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سمیت کئی اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

بھارت منڈپم میں برکس ممالک اور شراکت دار ملکوں کے نمائندے جمع ہوئے ہیں جہاں اقتصادی تعاون، عالمی سلامتی اور کثیر جہتی اصلاحات پر تبادلۂ خیال ہورہا ہے۔ اجلاس کا مقصد عالمی معیشت میں برکس کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانا، بینکنگ، سرمایہ کاری، اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا، اور بین الاقوامی سلامتی و گورننس پر یکساں موقف اختیار کرنا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صدر لی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے آج وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی سالگرہ پر انہیں خصوصی انداز میں مبارکباد دی اور بھارتی خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر مستحکم بنانے میں ان کے اہم خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے انہیں ایک ماہر اور تجربہ کار ڈپلومیٹ قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو نمایاں کیا۔