Bharat Express DD Free Dish

S Jaishankar

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مسلسل سرحد پار دہشت گردی اور خراب جمہوری ریکارڈ کے باوجود پاکستان کی فوجی حکومتوں کی مسلسل حمایت کو لے کر یورپ پر سخت تنقید کی ہے۔

وزیرخارجہ ایس جے شنکر پر راہل گاندھی کی پوسٹ سے متعلق این سی پی کے کارگزار صدرپرفل پٹیل نے کہا کہ آج جب ملک متحد ہے، تب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ایسی بچکانی باتیں کر رہے ہیں۔

کانگریس نے آپریشن سندورسے متعلق مرکزی حکومت کو گھیرا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی پر سوال کیا ہے۔

ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور معاملات مکمل طور سے دو فریقی ہوں گے۔ معطلی کو ختم کرنا ہے تو پاکستان مقبوضہ کشمیر کو خالی کردے۔

محبوبہ نے اپنے بیان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہند-پاک کشیدگی کے معاملے میں امریکہ ایک خاص نقطہ سے آگے مداخلت نہیں کرے گا۔ حالانکہ، صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستانی آرمی چیف سے رابطہ کرکے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

مارکو روبیو نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے ایسے وقت میں بات کی جب پاکستان مسلسل ڈرونز سے ہندوستانی علاقوں پر حملے کر رہا ہے، جس کا ہندوستانی فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ یہاں خالصتانی فسادیوں نے ایک بار پھر تمام حدیں پار کر دیں۔ لندن میں چیتھم ہاؤس کے باہر خالصتانی فسادیوں نے ہنگامہ برپا کردیا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پوری طرح سے متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بالکل سوچ کے مطابق ہو رہی ہیں اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

بدھ کے روز امرتسر کے سری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 104 ہندوستانی شہریوں کو لے کر ایک امریکی فوجی طیارہ پہنچا۔ ان مہاجرین میں سے 30 کا تعلق پنجاب سے، 33 کا ہریانہ اور گجرات سے، تین کا تعلق مہاراشٹر اور اتر پردیش سے ہے جبکہ دو کا تعلق چنڈی گڑھ سے ہے۔ ان میں 19 خواتین اور 13 نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔

اپوزیشن نے ا مریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانیوں کی ملک بدر کئے معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا۔ صبح 11 بجے پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔