Bharat Express DD Free Dish

Pawan Khera

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘ سے متعلق بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے ذریعے حکومت بدلنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، کوئی سازش نہیں۔

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جمعرات کے روز شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کارروائی کے دوران اپوزیشن کو ایوان کے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم معاملات پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ دتاتریہ ہوسبالے کا بیان رام مندر کے کروڑوں روپے کے چڑھاوے اور دان میں لوٹ کی حقیقت سامنے لانے کے لیے نہیں بلکہ سچائی پر پردہ ڈال کر سنگھ کی شبیہ بچانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے یکم جون کو 10 ریاستوں کی 24 راجیہ سبھا نشستوں کے لیے دو سالہ مدت مکمل ہونے پر انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، تمل ناڈو اور اڈیشہ کی ایک ایک خالی نشست کے لیے ضمنی انتخابات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی رجحانات اکثر حتمی نتائج کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، اسی لیے مختلف سیاسی جماعتیں صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پون کھیڑا کا بیان بھی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ اپنے کارکنان اور حامیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ رِنیکی بھویان کے پاس متعدد غیر ملکی پاسپورٹ ہیں اور بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثے موجود ہیں۔ ان بیانات کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت، جعلسازی اور مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پون کھیڑا نے اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے منگل تک گرفتاری پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے منع کردیا۔ 15 اپریل کو سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس حکم پربھی روک لگا دی تھی، جس میں پون کھیڑا کو ایک ہفتے کی ٹرانزٹ بیل دی گئی تھی۔

آسام کے ایڈوکیٹ جنرل سیکیا نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا، "اس معاملے میں، آسام میں ایف آئی آردرج کی گئی تھی۔ وہ (پون کھیڑا) دہلی کے مستقل رہائشی ہیں۔ فی الحال، وہ حیدرآباد میں ہیں اورتلنگانہ میں پیشگی ضمانت کے لیے درخواست دے رہے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟"

عدالت میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران پون کھیڑا کی جانب سے سینئر وکیل اور کانگریس لیڈر ابھیشیک سنگھوی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آسام حکومت کی جانب سے درج مقدمہ دراصل سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد اپوزیشن لیڈروں کو ہراساں کرنا ہے۔