تصویر: اے این آئی
بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے انتباہ کے باوجود سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف بی جے پی لیڈران کے متنازعہ تبصرے لگاتار جاری ہیں۔ اس فہرست میں نیا نام مغربی بنگال کی بی جے پی ایم ایل اے اگنی مترا پال کا ہے۔ اتوار کے روز اگنی مترا پال نے پارٹی کے ایم پی نشی کانت دوبے کے تبصروں کی حمایت کی، جنھوں نے کہا تھا کہ ملک میں جاری ’’خانہ جنگیوں‘‘ کے لیے صرف اور صرف چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کو ہی قانون بنانا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کر دینا چاہیے۔
اے این آئی کی خبر کے مطابق نشی کانت دوبے کے مذکورہ خیالات کی تائید کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی اگنی مترا پال نے بھی کہا کہ اگر ملک کو سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف انڈیا ہی چلا رہے ہیں، تو پھر پارلیمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگنی مترا نے کہا ’’انھوں نے (دوبے نے) صحیح بات کہی ہے۔ صدر ہندوستان کے چیف جسٹس کی تقرری کرتے ہیں۔ پھر ہندوستان کے چیف جسٹس صدر کے حکم کو کیسے مسترد کر سکتے ہیں؟ وہ پارلیمنٹ اور قوم کے پالیسی سازوں کے فیصلوں کو کیسے مسترد کر سکتے ہیں؟‘‘ بی جے پی لیڈر نے مزید کہا ’’اگر ملک کو CJI اور سپریم کورٹ چلا رہے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، پھر سب کچھ CJI کو کرنا چاہیے۔‘‘
#WATCH | North 24 Parganas, West Bengal | On BJP MP Nishikant Dubey’s remark, BJP leader Agnimitra Paul says, “He has said the right thing. The President appoints the Chief Justice of India. Then how can the CJI deny the President’s order? How can he deny the decision of the MPs… pic.twitter.com/TIQ9rmnvWQ
— ANI (@ANI) April 20, 2025
واضح رہے کہ بی جے پی نے سپریم کورٹ کے خلاف بی جے پی لیڈران، بشمول نشی کانت دوبے، کے تبصروں سے خود کو الگ کر لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا نے پارٹی لیڈروں کو ہدایت بھی کی کہ وہ اس طرح کے تبصرے نہ کریں۔ اس کے باوجود بی جے پی لیڈران کی جانب سے ایسے تبصروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دریں اثنا اپوزیشن نے نڈا کے بیان کو محض ’’ڈیمج کنٹرول‘‘ (تلافی مافات) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بی جے پی واقعی ایسے بیانات کی حامی نہیں ہے تو اس نے بیانات دینے والے اپنے لیڈران کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



