Bharat Express DD Free Dish

SC

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ چونکہ سپریم کورٹ نے پورے ایکٹ کے نفاذ پر مکمل پابندی نہیں لگائی، اس لیے ایکٹ کی کئی متنازعہ دفعات کے غلط استعمال کا اندیشہ برقرار ہے۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 5 اپریل کو اس متنازعہ ترمیمی قانون کو منظوری دے دی تھی، جسے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شدید بحث و مباحثے کے بعد منظور کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایک سخت فریم ورک بنائیں اور اس پر عمل درآمد کریں تاکہ کوئی بھی ڈیولپر خریداروں کو دھوکہ نہ دے سکے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے عدالت کے احاطے میں غیر رسمی اور تفریحی مواد بنانے کے بڑھتے رجحان پر سخت تشویش ظاہر کی تھی۔

عدالت بی جے پی کی طرف سے دائر اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں یکم اگست کو ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

بنچ نے زور دیا کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور صرف اصل شہریوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔

عدالت نے ریاستی وکیل کی جانب سے پیش کردہ ’’گمراہ کن حلف ناموں‘‘ پر بھی سوالات اٹھائے اور معاملے میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا۔

بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘

درخواست گزار نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ یہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور تنقید کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔