بکسر قتل کیس پر سیاست شروع
پٹنہ: بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ دنوں میں حکمران جماعت ہو یا اپوزیشن، ایک دوسرے کو آئینہ دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ اس دوران ہفتہ کے روز بکسر میں تین افراد کے قتل کو لے کر اب سیاست شروع ہو گئی ہے۔ حکمراں جے ڈی یو نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور اس معاملے کو لے کر آر جے ڈی سے سوال کیا ہے۔ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے بکسر قتل کیس کا کنیکشن آر جے ڈی سے جوڑ دیا ہے۔
ملزم کی تیجسوی یادو کے ساتھ تصویر
اس کیس میں مبینہ ملزم سنتوش یادو کی آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے جے ڈی یو لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’اس بار کون سی اسکرپٹ پڑھیں گے تیجسوی یادو؟ بکسر پر ’بکار‘ نکالیں گے؟ ریت لال پر سازش کا راگ تھا، اب آپ کے ’دُلروا‘ مجرم سنتوش یادو نے تواری سنگھ سمیت ایک ہی خاندان کے لوگوں کو قتل کر دیا۔ اس پر کیوں خاموش؟ مجرم چاہے جس کا بھی دُلروا ہو، قانون کے شکنجے سے نہیں بچے گا، چاہے دُلروا ہو یا درندہ بچیں گے نہیں۔‘‘
بدمعاشوں نے پانچ لوگوں کو ماری گولی
قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی صبح بکسر ضلع کے راج پور تھانہ علاقے کے آیہ پور گاؤں میں بدمعاشوں نے پانچ لوگوں کو گولی مار دی تھی، جس میں تین لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ یہ تمام افراد ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔
معاملے میں 19 لوگوں کو کیا گیا نامزد
پولیس کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے ونود سنگھ، سنیل سنگھ اور وریندر سنگھ نہر کے قریب چہل قدمی کر رہے تھے کہ کچھ بدمعاش ایک کار میں آئے اور فائرنگ شروع کر دی۔ بدمعاشوں نے ان تینوں کو گولی مار دی۔ ان کو بچانے کے لیے آنے والے دو دیگر ارکان کو بھی بدمعاشوں نے گولی مار دی۔ اس معاملے میں مہلوک کے اہل خانہ کی تحریری درخواست پر راج پور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے جس میں 19 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے اور تین نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


