Bharat Express DD Free Dish

Bihar Crime

بہار کے سپول میں SH-91 سڑک پر محمد ذیشان خان کو مبینہ طور پر زبردستی کار میں بٹھا کر لے گئے ملزمان، مزاحمت پر تقریباً چار راؤنڈ فائرنگ، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، پولیس نے خصوصی ٹیم تشکیل دے کر تفتیش شروع کی۔

شام تک گاؤں والوں کی مدد سے مسلسل تلاش جاری رہی۔ اسی دوران گاؤں کے قریب کھدائی کے دوران بنائے جا رہے ایک تالاب کے کنارے بچے کی لاش ملی۔ لاش دیکھ کر اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش تالاب کے کنارے پھینک دی گئی تھی۔پ

واقعے کی اطلاع ملتے ہی کمارباغ اور چنپٹیا تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے امدادی اور تلاش کے آپریشن کے بعد پولیس نے تینوں بچوں کی لاشیں نہر سے برآمد کر لیں۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

بہار کے اورنگ آباد میں وت ساوتری کے دن لاپتہ ہونے والے ایک بچے کی تلاش کے دوران پولیس نے شیوا پانڈے نامی ایک بچے کو بھی برآمد کیا جو چار سال قبل ایک مندر سے چوری ہو گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزمہ خاتون نے انکشاف کیا کہ اس نے بچے کو مندر سے اس لیے اغوا کیا تھا کیونکہ وہ اپنے بچے پیدا کرنے سے قاصر تھی اور وہ اسے اپنا بیٹا سمجھ کر پالتی رہی تھی۔

پولیس کے مطابق مغربی بنگال کے دالکولا کا رہنے والا سندیپ داس اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ دربھنگہ کے چندن پٹی علاقے میں ایک مرغی فارم پر کام کرتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا اپنی بیوی پھول کماری داس کے ساتھ اکثر جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔

افسوسناک واقعہ خداگنج تھانہ علاقہ کے جیٹھؤنا گاؤں میں پیش آیا، جہاں منگل کی دیر رات ایک گھر کے کمرے سے خاتون اور اس کی بیٹی کی لاشیں ملی ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دیا۔

پٹنہ میں 21 سالہ طالبہ انوپما کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ متوفیہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ قتل کا الزام اس کے ہی عاشق آرتھَو شریواستو پر لگا ہے۔ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ متوفیہ کی لاش 13 اپریل کو بہٹا تھانہ علاقے کے راگھوپور گاؤں میں ملی۔ وہ کرائے کے مکان میں رہتی تھی۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ 20 برس کی این ڈی اے حکومت سے نوجوانوں نے کیا مانگا؟ اپنے حصے کی نوکری اور روزگار ہی تو مانگا، مگر اس بدعنوان این ڈی اے حکومت نے نوجوانوں کی ضروریات پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نوجوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

زخمی ہوم گارڈ جوان کو فوری طور پر علاج کے لیے صدر اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ دوسری جانب مہلوک کے اہل خانہ نے اسے ایک سازش قرار دیتے ہوئے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ  چودھری کو براہ راست دھمکی نہیں دی گئی ہے، لیکن ان کے ایک کارکن  کو فون پر پیغام کے ذریعے دھمکی دی گئی ہے۔ ان دنوں بہار میں جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ پٹنہ سے گیا تک مجرمانہ واقعات ملک میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔