بہار الیکشن رزلٹ کو لوگ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ مینڈیٹ کو قبول نہ کرنے کی حالت میں وہ کبھی ای وی ایم تو کبھی ایس آئی آر کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ این ڈی اے کے 200 کا ہندسہ پار کرتے ہی اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اس انتخابی نتیجے کو ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کا نتیجہ قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا، ان کے اس بیان پر وہ نشانے پر آ گئے۔ تاہم اصل بحث اس وقت بنی جب اکھلیش یادو کے اس بیان پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی بھڑک اٹھے اور انہوں نے خوب سنایا۔ بتا دیں کہ بہار میں دو مرحلوں میں ہوئی ووٹنگ کے بعد 14 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کرائی گئی۔ اس میں این ڈی اے کو 202 کی بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ اس میں بی جے پی کو 89، جے ڈی یو کو 85، ایل جے پی آر کو 19 نشستیں ملیں۔ بکہ پورا عظیم اتحاد مل کر بھی صرف 35 نشستوں تک محدود رہا۔ آر جے ڈی نے 25 اور کانگریس نے محض 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد سے یہ نتائج بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
اکھلیش یادو کا بیان حیرت انگیز پر مبنی ہے – اسد الدین اویسی
ہفتہ کو بہار انتخابات کے نتائج پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اکھلیش یادو کو خوب سنایا۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ اکھلیش یادو یہ کہنے لگے ہیں کہ اس مینڈیٹ کی وجہ بہار کا ایس آئی آر ہے،یہ غلط ہے۔ ہم بھی نہیں چاہتے تھے کہ این ڈی اے جیتے۔ ہم نے پوری کوشش کی، آپ تیار نہیں تھے۔ پھر بھی ہم نے پوری کوشش کی۔ یہ بہار کی عوام کا مینڈیٹ ہے اور ہمیں اسے عزت کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔
ہم نتیش کمار کا تعاون کریں گے
اسد الدین اویسی نے آگے کہا کہ میں اتنا بڑا سیاستدان نہیں ہوں، لیکن مجھے اس نتیجے کے امکان دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم، مجھے امید نہیں تھی کہ وہ 200 کا ہندسہ پار کر پائیں گے۔ اب انہیں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اویسی کو ذمہ دار ٹھہرانے کا اپنا پرانا راگ الاپنا شروع کرتے ہیں تو انہیں وہی راگ الاپنے دیجیے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اکھلیش یادو یہ کہنے لگے ہیں کہ اس مینڈیٹ کی وجہ بہار کا ایس آئی آر ہے۔ ہم نتیش کمار کو مبارکباد دیتے ہیں۔ اگر وہ واقعی سیمانچل اور بہار کی ترقی کرنا چاہتے ہیں، تو ہم تعمیری کاموں میں ان کا تعاون کریں گے تاکہ سیمانچل کے ساتھ انصاف ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

