Urdu Conclave 2026

Indian Politics Controversy

مانسون اجلاس سے قبل منعقدہ کل جماعتی میٹنگ میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو مدعو کیے جانے پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔ کافی ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن دوبارہ اجلاس میں شامل ہوگئی، تاہم اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ واضح طور پر سامنے آ گیا۔

سپریم کورٹ میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP)، جعلی وکیلوں کے ریکیٹ اور عدالتی ریمارکس کے غلط استعمال سے متعلق دائر عرضی پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدارمیں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک”سیکولر سیاست“ کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا۔

لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال کے بیان پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اکھلیش نے اسے اپنی مرحومہ والدہ کی توہین قرار دیتے ہوئے اخلاقیات کا درس دیا اور ایک جذباتی پوسٹ بھی شیئر کی۔

یَوَت مال میں کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے کی مورتی کی نقاب کشائی سے عین قبل انتظامیہ نے اسے ہٹا دیا۔ آدھی رات کو کی گئی اس کارروائی کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے بغیر کسی تحریری حکم کے یہ قدم اٹھایا، جس سے عظیم سماجی مصلح کی توہین ہوئی ہے۔

سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ نے بہار اسمبلی انتخابات کے دوران مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو ٹکٹوں کی تقسیم پر تنقید کی تھی۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے بی جے پی نے معطلی کا نوٹس دیا تھا، آج باضابطہ طور انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

بہار انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی پورے ملک میں اس مینڈیٹ پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اسی دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو خوب سنایا ہے۔

وفاقی ڈھانچے اور عدلیہ کو نظر انداز کرنے کا دعویٰ، تین بلوں پر شدید مخالفت۔ ان بلوں کے تحت، اگر کسی وزیر اعظم، مرکزی وزیر یا ریاستی وزیر کو سنگین فوجداری الزامات میں 30 دن تک کے لیے گرفتار کیا جائے یا حراست میں رکھا جائے تو وہ 31ویں دن انہیں اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔