اتر پردیش کی سیاست میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث اب ایک ذاتی اور جذباتی موڑ اختیار کر گئی ہے۔ دراصل لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال کے ایک حالیہ بیان نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ اکھلیش یادو نے میئر کے بیان کو اپنی مرحومہ والدہ کی توہین قرار دیتے ہوئے انہیں اخلاقیات کی یاد دلائی ہے۔
میئر سشماکھڑکوال کا متنازع بیان کیا تھا؟
خواتین ریزرویشن کے معاملے پر اپوزیشن (سماجوادی پارٹی اور کانگریس) کو نشانہ بناتے ہوئے میئر سشماکھڑکوال نے ایک عوامی جلسے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا، ’’اپوزیشن نے اس عورت کی توہین کی ہے جس کی کوکھ سے ان کی پیدائش ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بہن اور بیٹی کی توہین کی ہے جن کی انگلی پکڑ کر یہ چلنا سیکھے ہیں۔‘‘ اگرچہ ان کا اشارہ سیاسی مخالفت کی طرف تھا، لیکن ’کوکھ‘ اور ’پیدائش‘ کے حوالے کو اکھلیش یادو نے اپنی مرحومہ والدہ پر ذاتی حملہ سمجھا۔
اکھلیش یادو کا جذباتی جواب
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر ایک طویل، مہذب مگر سخت پیغام لکھا۔ انہوں نے میئر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’سشما کھڑکوال جی، براہِ کرم اپنی سیاسی مجبوریوں کے تحت میری مرحومہ والدہ کا حوالہ دے کر ایک خاتون کی حیثیت سے دوسری خاتون کی توہین نہ کریں۔ ہمارے معاشرے میں کسی کی ماں کی توہین قابلِ قبول نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ آپ اپنے گھر کے بزرگوں یا بچوں سے پوچھیں کہ کیا اس طرح کا نفرت انگیز بیان دینا درست ہے؟ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ کسی معافی کی توقع نہیں رکھتے کیونکہ ایسے الفاظ کے بعد معافی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور آپ کا تنہائی میں ہونے والا احساسِ ندامت ہی کافی ہوگا۔
سیاست میں زبانی جنگ تیز
اس واقعے کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں الزام تراشی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے اسے’’بی جے پی کی سطحی سیاست‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ میئر کا بیان دراصل خواتین کے احترام کی بات کر رہا تھا جسے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

