پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان۔
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے انصاف کی اپیل ملک کے چیف جسٹس سے کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈران نے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر کیا ہے، جس میں ان سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے اس خبر کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں عمران خان کو آنکھ کا دوسرا انجیکشن لگنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق خط میں عمران خان کو طبی اور قانونی سہولیات کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علاج کے معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔
وکیل شاہ محمود قریشی کے ذریعے جاری کیے گئے خط میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جن کا ذکر عمران خان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کے دیگر لیڈران پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ذاتی معالج تک رسائی کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی انہیں خاندان کے افراد اور قانونی مشیروں سے مناسب ملاقات کی سہولت دی جا رہی ہے۔
آنکھوں کی سنگین بیماری میں میں مبتلا ہیں عمران
اگست 2023 سے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (سی آر وی او) میں مبتلا ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک طبی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔
خط میں نواز شریف کو ملی طبی سہولیات کا موازنہ
خط میں پی ٹی آئی لیڈران نے 2019 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو فراہم کی گئی طبی سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے موازنہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پلیٹ لیٹس کی کمی کے باعث نواز شریف کو لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور حکومت نے ان کے مکمل طبی علاج کو یقینی بنایا تھا۔
نواز کو علاج کے لیے برطانیہ جانے کی ملی اجازت
لیڈران کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں کو بھی مکمل ملاقات کی اجازت حاصل تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے علاج کے لیے برطانیہ جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
حکومت کا عمران کے معاملے میں ’پراسرار‘ رویہ
پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، ان کے طبی ماہرین تک رسائی محدود کی جا رہی ہے اور خاندان کے علاوہ نجی وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
لیڈران نے الزام لگایا کہ حکومت سیاسی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے دانستہ طور پر رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کمی کے باعث سیاسی عدم استحکام سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خط کے اختتام پر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے ذاتی ڈاکٹروں، قانونی مشیروں اور اہلِ خانہ سے مناسب ملاقات کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


