Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Tehreek-e-Insaf

پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائرکی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ شہبازشریف حکومت کا موقف تھا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے معروف انگریزی روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے تحریک کے آغاز کے لیے 5 اگست کی تاریخ طے کی ہے۔ اس تحریک میں عوامی جلسے، احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ شامل ہوں گے۔

عمران خان 5 اگست 2023 کو گرفتاری کے بعد سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ عمران خان کے خلاف 180 سے زائد مقدمات سیاسی انتقام کے تحت قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی اور سرکاری تحائف سے متعلق مقدمات میں سنائی گئی مختلف سزاؤں کے باعث زیر حراست ہیں۔

پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔

اپنی درخواست میں عمران خان نے سفارش کی ہے کہ انہیں ریٹینا اسپیشلسٹ سے علاج کے لیے فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے مشورہ کرنے کی اجازت دی جائے اور وہ ’چیک اپ اور علاج کے تمام عمل سے جڑے رہیں۔‘‘

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے ایک ڈاکٹر کے مطابق، عمران خان کو 24 فروری کو اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک کے لیے اسپتال لایا گیا۔

عمران خان کی رہائی نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ حال ہی میں بطور کرکٹر ان کے ساتھ کھیلنے والے سابق 14 کپتانوں نے ایک خط لکھ کر پاکستان کے حکمرانوں سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

رانا ثناء اللہ نے عمران خان کو ’’غیر سیاسی رویہ رکھنے والا‘‘ اور ’ضدی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ایک سنجیدہ رابطہ کاری کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

آفریدی پارٹی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کریں گے اور پی ٹی آئی کارکن علی بلال المعروف ظلِ شاہ کے گھر بھی جائیں گے، جن کی 2023 کے احتجاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پارٹی عہدیداروں کو امید ہے کہ اتوار کے روز مینارِ پاکستان پر ہونے والی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔