پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان۔
اسلام آباد: پاکستان کی سیاست میں اس وقت غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور سیاسی ہلچل کا مرکز پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور ان سے ممکنہ ’ڈیل‘ کی خبریں بن گئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے قریبی لیڈران کے بیانات میں تضاد سامنے آنے کے بعد میڈیا میں قیاس آرائیوں کا شور مچ گیا، جس کے بعد وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کو وضاحت پیش کرنا پڑی۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعرات کے روز حکومت اور جیل میں قید عمران خان کے درمیان کسی بھی قسم کی ’ڈیل‘ سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں تارڑ نے کہا، ’’عمران خان کے لیے نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی برتی جا رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم کو حکومت کی جانب سے کسی رعایت دیے جانے کا تاثر ’بالکل غلط اور گمراہ کن‘ ہے۔ تارڑ کے مطابق، ’’عمران خان ایک مجرم ہیں جنہیں عدالتوں نے سزا سنائی ہے اور ان کے لیے کسی نرمی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان رپورٹس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘‘
اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں عمران خان
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں اور وہ 190 ملین ڈالر کے بدعنوانی کیس میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند ماہ قبل انہیں سرکاری تحائف سے متعلق ایک اور مقدمے میں بھی قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کئی مقدمات کی سماعت بھی جاری ہے۔
رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد سامنے آئی وضاحت
حکومت کی جانب سے یہ وضاحت دراصل وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ معاملات کے حل کے لیے کوششیں کی گئیں، لیکن عمران خان کسی بھی’ڈیل‘ کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ بدھ کے روز اے آر وائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا، ’’وہ (عمران خان) کسی بھی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ دو مرتبہ سنجیدہ کوششیں کی گئیں لیکن عمران خان نے اتفاق نہیں کیا کیونکہ ان کے مطالبات ایسے تھے جنہیں موجودہ حکومت پورا نہیں کر سکتی۔
رانا ثناء اللہ نے عمران خان کو ضدی قرار دیا
رانا ثناء اللہ نے سابق وزیر اعظم کو ’’غیر سیاسی رویہ رکھنے والا‘‘ اور ’ضدی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ایک سنجیدہ رابطہ کاری کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
حکومت سے مذاکرات کی عمران نے کی مخالفت
انہوں نے کہا، ’’دوسری کوشش کی تفصیل نہیں بتا سکتا کیونکہ کچھ افراد بیرون ملک سے آئے تھے جن کا عمران خان سے رابطہ بتایا گیا۔ وہ عمران خان سے ملے بھی، ابتدا میں وہ متفق ہوئے لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔‘‘ رانا ثناء اللہ کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کے بعض لیڈران جنوری میں حکومت سے مذاکرات چاہتے تھے، لیکن عمران خان نے اس اقدام کی مخالفت کی۔
ڈان اخبار کے مطابق پارلیمانی سکریٹری بیرسٹر دانیال چودھری نے بھی عمران خان کے ساتھ کسی ’ڈیل‘ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان شروع دن سے رعایت اور معاہدہ چاہتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی قسم کی بلیک میلنگ قبول نہیں کریں گے۔ عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا واحد سبب ان کی صحت ہو سکتی ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


