Bharat Express DD Free Dish

Adiala Jail

پاکستان کی اڈیالہ جیل، جہاں سابق وزیراعظم عمران خان کو رکھا گیا ہے، ایک بارپھرخبروں میں ہے۔ خبروں کے مطابق، 14 قیدی عدالت سے واپسی کے دوران پولیس وین سے فرارہوگئے۔ چارکودوبارہ پکڑلیا گیا ہے، جبکہ پولیس اورسیکورٹی ادارے باقی قیدیوں کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن کررہے ہیں۔

عمران خان کی رہائی نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ حال ہی میں بطور کرکٹر ان کے ساتھ کھیلنے والے سابق 14 کپتانوں نے ایک خط لکھ کر پاکستان کے حکمرانوں سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

رانا ثناء اللہ نے عمران خان کو ’’غیر سیاسی رویہ رکھنے والا‘‘ اور ’ضدی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ایک سنجیدہ رابطہ کاری کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان راولپنڈی کی بدنامِ زمانہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اگست 2023 میں کرپشن سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ اسی جیل میں بند ہیں۔ اب ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو نہایت خراب اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔