پاکستان کی محفوظ ترین جیلوں میں شمارہونے والی اڈیالہ جیل ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ یہ وہی جیل ہے جہاں سابق وزیراعظم عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے قید ہیں۔ تاہم، اس بارتوجہ عمران خان پرنہیں، بلکہ جیل کے سیکورٹی نظام پراٹھنے والے سوالات پرمرکوزہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس ہائی سیکورٹی جیل سے 14 قیدی فرارہوگئے، جس سے پورے علاقے میں ہائی الرٹ کردیا گیا۔ پولیس اورسیکورٹی اداروں نے فرارہونے والے قیدیوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پرسرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
اڈیالہ سینٹرل جیل جسے راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل بھی کہا جاتا ہے، سے اہم خبرموصول ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ 14 قیدیوں کوعدالت میں پیشی کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران تمام قیدی، جو موقع کے انتظارمیں تھے، پولیس وین سے فرارہوگئے۔ فرارہونے والوں نے جیل میں سیکورٹی کی خرابی کا فائدہ اٹھایا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جیل انتظامیہ، پولیس اوردیگرسیکورٹی ادارے حرکت میں آگئے۔ ارد گرد کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اورفرارہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لئے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے 4 قیدیوں کو کرلیا گرفتار
ابتدائی جانچ میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کہیں اس فراری میں کسی جیل ملازم کی لاپرواہی یا اندرونی ملی بھگت تونہیں تھی۔ اطلاعات کے مطابق، قیدیوں سے بھری وین کوجب جانچ کے لئے روکا گایا، تواسی وقت قیدیوں میں پولیس افسران کی آنکھوں میں مرچی پھینک دی اور فرار ہوگئے۔ جس کے بعد سے فوراً سبھی کوتلاش کرنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑی۔ اس دوران 14 میں سے 4 قیدیوں کودوبارہ سے پکڑلیا گیا، لیکن باقی 10 کی تلاش جاری ہے۔
بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات
اڈیالہ جیل پاکستان کی بدنام ترین جیلوں میں سے ایک ہے۔ اس میں بہت سے ہائی پروفائل قیدی رکھے گئے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان بھی کرپشن کیس میں وہیں قید ہیں۔ ان کی سیکورٹی کے لئے پہلے ہی خصوصی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اورجیل کے باہرسخت نگرانی رکھی گئی ہے۔ چنانچہ اس جیل سے قیدیوں کا فرارہونا سیکورٹی اداروں کے لئے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قیدیوں کو پکڑنے کے لیے پولیس کی بھاری پولیس فورس طلب کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


