Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

عشائیے کے دوران جب پیانو پر دھن بج رہی تھی تو ملائیشیا کے وزیر اعظم نے 1965 کی فلم ’تین دیویاں‘ کا گانا ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ گانا شروع کر دیا۔ کشور کمار کے اس مشہور گانے کی دھن پورے ہال میں گونجنے لگی۔ انور ابراہیم کی شاندار پیشکش نے پوری شام کو خوشگوار بنا دیا۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران منعقدہ عشائیے سے متعلق معلومات شیئر کیں۔

28 اگست 1998 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن بھارت، پاکستان، مصر، کویت، سعودی عرب، یمن، یوگنڈا اور ممکنہ طور پر نائجیریا سمیت کئی ممالک میں حملے کرنا چاہتا تھا۔تاہم دستاویز میں بھارت کے کسی مخصوص شہر، عمارت یا مقام کو ہدف کے طور پر نشان زد نہیں کیا گیا تھا۔ اس میں حملے کی تاریخ یا کارروائی کی حکمت عملی سے متعلق بھی کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ بعض معلومات اب بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔

پیزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’اگر امریکی جنگجو ہیں تو انہیں ہماری بہادر فوج کا سامنا کرنے دیں۔ عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، کھانے پینے کی اشیا اور روزگار کے ذرائع پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا سب سے اہم مرحلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ہے، جو آج شام متوقع ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر مودی اور شی کی یہ ملاقات انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیڈران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کا اثر عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

برکس تنظیم کا بڑھتا دائرہ مغربی ممالک کے اقتصادی غلبے اور پابندیاں عائد کرنے کی طاقت کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے، جس سے عالمی سیاست اور معیشت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’18ویں برکس سربراہی اجلاس کے لیے نئی دہلی میں ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کا پرتپاک استقبال ہے۔ ہوائی اڈے پر وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے ان کا استقبال کیا۔‘‘

جنوبی افریقہ کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ صدر رامافوسا نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات جنوبی افریقہ کی ان کاروباری سرگرمیوں کا حصہ تھی، جن کا مقصد بھارت کے ساتھ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری شراکت داری کو نئی رفتار دینا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ آج دنیا جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان حالات نے ممالک کے لیے اقتصادی ماحول کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کا جواب برکس کے پاس موجود ہے۔

دونوں لیڈروں کی یہ ملاقات بھارت اور روس کے باہمی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پوتن کے دورہ بھارت کی تصدیق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھارت کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار مانتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ماسکو کے لیے انتہائی اہم ہیں۔