Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارت کومتاثرکیا ہے، جس سے شپنگ لائنیں متاثرہوئی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے موانی نے جدہ اسلامی بندرگاہ سے انڈیا (مندرا) اورجبوتی کے لئے ایک نئی شپنگ سروس شروع کی ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ فریقین ایک ایسے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو منڈیوں تک رسائی آسان بنانے اور ٹیرف سے متعلق متعدد تنازعات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ایران سے متعلق کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی معاملے پر توجہ دینا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ایران کی اسلامی جمہوریہ سے متعلق معاملہ نمٹائیں گے، اس کے بعد واپسی پر وہاں ایک چھوٹا سا پڑاؤ ڈالیں گے۔

لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس میں اس وقت تقریباً دس ہزار آٹھ سو امن اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں قریب ایک ہزار بھارتی فوجی بھی شامل ہیں۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ حالیہ حملے میں کسی بھارتی فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یو این ایس سی کے انتخابات میں ایک بڑا الٹ پھیردیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کوبھی سلامتی کونسل سے نکال دیا جائے گا۔ وہیں، کرغزستان پہلی بار سلامتی کونسل کا رکن بن جائے گا۔

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈیلسی روڈریگیز سے ملاقات خوش آئند رہی اور اس دوران توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بھارت-برطانیہ شراکت داری نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔  کریٹیکل منرلز گلوبل سپلائی چین آبزرویٹری (جی ایس سی او) سیٹلائٹ سینٹر کا افتتاح کیا۔

بھارت اور وینزویلا نے توانائی سمیت مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان جمعرات کو نئی دہلی میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مبینہ ’جبری مشقت‘ (Forced Labour) کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت سمیت تقریباً 60 ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف (درآمدی محصول) عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کو عالمی تجارتی حلقوں میں ایک بڑے معاشی دباؤ کے حربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات بھارتی برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔