Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

روسی صدر پوتن نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’بااعتماد ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت-روس تعلقات تاریخی اور خصوصی نوعیت کے ہیں۔

اگرچہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن عالمی امن کے معاملے میں دونوں رہنما ایک دوسرے کے اقدامات کو سراہنے سے گریز نہیں کرتے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ثالثی کے ذریعے فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ امن منصوبے کی تفصیلات پر بات ہو سکے۔ تنظیم نے اس عمل کو قیدیوں کی رہائی کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس بی آرگوئی نے ماریشس ‘Rule of Law’ میں پرخطاب کیا۔ انہوں نے سرماریس رالٹ کی وراثت اوربھارت-ماریشس کے تعلقات پرروشنی ڈالی۔ تین طلاق، بلڈوزرفیصلے کی بھی یاد دلائی۔

سری گنگا نگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دیویدی نے کہا ’’میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپریشن سندور 1.0 کے دوران ہندوستان نے جو تحمل کا مظاہرہ کیا تھا وہ اس بار برقرار نہیں رکھا جائے گا۔‘‘

امریکی حکومت کے سابق سینئر اہلکار ریمنڈ وِکری نے آئی اے این ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ ہندوستانی لیڈران کو ،چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے وابستہ ہوں، ہندوستانی اقدار اور مفادات کے حق میں بات کرنی چاہیے۔

منصوبے میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی محفوظ رہائی اور مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کو مرکزی نکات کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جب کہ اس کا حتمی مقصد غزہ کو خوشحالی اور پائیدار امن کا مظہر بنانا ہے۔

چیف جسٹس بی آر گوئی کا یہ دورہ بھارت اور ماریشس کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جو مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

 پاکستان کے پی او کے(کشمیر )میں اس درجے کا عوامی احتجاج گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔ مقامی آبادی میں حکومت پاکستان کے خلاف بڑھتی بے چینی اور عدم اعتماد اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ تحریک ایک وسیع تر سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قطر کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو بیرونی حملوں سے بچانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اگر قطر پر کوئی مسلح حملہ ہوتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی سیکورٹی اور امن کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور اس کے خلاف سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی کرے گا۔