Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

دہشت گردی کے مسئلے پر بھی پیٹل گہلوت نے پاکستان کو چاروں شانے چت کر دیا۔ انہوں نے کہا: ایک ایسا ملک جو طویل عرصے سے دہشت گردی کو فروغ دینے اور اسے برآمد کرنے میں ملوث ہے، اُسے اس طرح کی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ ہندو پجاری چنمیہ کرشن داس کو یونس حکومت نے غیرقانونی طور پر جیل میں قید کیا ہے۔ اقلیتوں کے افراد کو مسلسل قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ شیخ حسینہ کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ہٹا کر یونس نے طاقت پر قبضہ کیا ہے۔

اپنی ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ:"ہم یکم اکتوبر سے تمام کچن کبینیٹس، باتھ روم وینٹیز اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگائیں گے۔ جبکہ اپہولسٹرڈ فرنیچر پر 30 فیصد، اور بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے بھاری ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگے گا۔"

یہ بیان ٹرمپ نے نیویارک میں عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس اہم ملاقات میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر مستحکم اور شورش زدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ دھماکے سے چند گھنٹے قبل بھی پاکستانی فوج کے اہلکار ریلوے ٹریک کی صفائی کے دوران ایک اور بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔

سال 1999 میں شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کو متفی اعظم کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے مملکت میں اعلیٰ ترین مذہبی اسکالر کے طورپر خدمات انجام دیں، شریعت کی تشریح اور قانونی اور معاشرتی امور پر فتوے جاری کئے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی ٹیرِف کو لے کر تناؤ رہا ہے، اور اب ویزا معاملات میں بھی ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جس کے بعد امید ہے کہ ان مسائل کا جلد کوئی حل نکلے گا۔

اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔

دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک رکھا ہے۔

2021 میں امریکی فوج کی واپسی کے بعد افغانستان میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ رہے بگرام ایئربیس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔ اسی دوران، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ہم بگرام ایئربیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں۔