Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی بات دہرائی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آسٹریلیا سے جمہوری انتخابات کرانے، مالی اور انتظامی اصلاحات اور تعلیمی نظام میں تبدیلی جیسے وعدے بھی کیے ہیں۔

اسرائیل نے اس فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ اور ’’انتہائی نقصان دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔اطلاعات کے مطابق پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل کئی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

بگرام کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکی اور طالبان کی سخت مخالفت نے ایک بار پھر خطے میں اس اڈے کی حیثیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ طالبان نے بیان کی سخت مذمت کی اور غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کر دیا۔

یہ تبدیلی امریکہ میں بھارتی IT پروفیشنلز اور دیگر غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، اور اگلے کچھ دنوں میں اس پر عالمی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جنگ سے متعلق ہولناک مناظر اور ویڈیوز عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جس کے بعد اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایسٹونیا کی وزارت خارجہ نے روسی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے الزام عائد کیا کہ روسی طیاروں نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

نیویارک میں 22 ستمبر کو فلسطین کو منظوری دینے سے متعلق ایک اہم میٹنگ ہونی ہے۔ میٹنگ میں کئی مغربی اور یوروپی ممالک کے بھی فلسطین کو منظوری دینے کی امید ہے۔ اب اس فہرست میں ایک ملک کا نام اور جڑگیا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔‘‘

امریکی وزیر تجارت نے واضح کیا کہ اب کم تجربہ کار افراد کو تربیت دینے والے پروگرامز سستے نہیں رہیں گے۔ ’’اگر تربیت دینی ہے تو امریکیوں کو دی جائے گی۔‘‘