Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے علاقائی اثرات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں تبدیلی لا رہے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے علاوہ برطانیہ، فرانس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، اسپین اور کولمبیا سمیت کئی ممالک سے بھی ایسی شکایات سامنے آئیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی رپورٹس موصول ہونے سے اشارہ ملا کہ یہ مقامی نیٹ ورک یا کسی مخصوص ڈیوائس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کی سطح پر تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے۔

مرفی نے کہا کہ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق اعلانات اچانک نہیں ہوتے بلکہ مبینہ طور پر پیسہ کمانے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص انہیں ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرے تو اسے امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلوں کی پہلے سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

حوثی گروپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی حملے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں۔

روس کی جانب سے جن امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں موجودہ ریلوے نیٹ ورک کو مزید توسیع دے کر جنوبی ایشیا تک پہنچانا شامل ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو روس اور بھارت کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا زمینی راستہ دستیاب ہو سکتا ہے۔

ینیڈا کو حالیہ برسوں میں جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرناک موسم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے اور کینیڈا کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بڑے حصوں میں بار بار دھواں پھیلتا رہا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘

چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق فوجیان میں طوفان کی آمد سے قبل ہفتہ کی شام تک تقریباً 99 ہزار افراد کو خطرے والے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا تھا۔ ژی جیانگ اور فوجیان میں 200 سے زیادہ فیری روٹس پر سروس معطل کردی گئی ہے۔طوفان کے پیش نظر جمعہ کی صبح تک 474 تعمیراتی جہازوں کو بندرگاہوں پر واپس بلا لیا گیا تھا، جبکہ سمندر میں جاری مختلف منصوبوں پر کام بھی روک دیا گیا۔

سعودی توانائی کی تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعہ کو ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

وائڈ ماؤتھ 2 فائر کا آغاز 27 جولائی کو اس وقت ہوا تھا جب سینٹرل یوٹا کے ایک چھوٹے سے علاقے کَنوش کے قریب فش لیک نیشنل فاریسٹ میں آسمانی بجلی گرنے سے خشک لکڑی، جھاڑیوں اور گھاس میں آگ لگ گئی۔ خشک موسم، شدید گرمی اور بے قاعدہ ہواؤں کے دوران آگ تیزی سے پھیل گئی، جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں سے لوگوں کو نکالنا پڑا اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔