Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صدر زیلنسکی سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے زیلنسکی کو آگاہ کیا۔ جے شنکر کے مطابق ملاقات میں جاری جنگ کے خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر خصوصی توجہ رہی۔

نئے ضابطے کے مطابق کم عمر طلبہ کے لیے اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہائی اسکول طلبہ کو کچھ مخصوص پائلٹ پروگراموں میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

مصر کے وزیر صحت خالد عبدالغفار نے حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وہیں، وزیر سماجی یکجہتی مایا مرسی نے حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ضروری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

ایران کے جنوبی علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب کے دوران ایک میزائل یا ڈرون کا ملبہ رہائشی مکان پر گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں ایک بچے سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک ماہ کی خاموشی کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کا بارود ایک بار پھر زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹ پڑا ہے! امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست فوجی جنگ نے اب انتہائی سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران میں IRGC کے ٹھکانوں پر امریکہ کی جانب سے مسلسل دوسرے روز کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں تہران نے پورے خلیجی خطے میں محاذ کھول دیا ہے۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں سزا سنائے جانے کے بعد جیل بھیجا گیا تھا۔ عمران خان اور ان کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ مسلسل اس فیصلے کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتی رہی ہے۔ ان کے حامیوں اور رشتہ داروں کا الزام ہے کہ جیل انتظامیہ نے اہل خانہ سے ان کی ملاقات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ایس سی او رکن ممالک نے 2026-2030 کے لیے گرین ٹیکنالوجی کوریڈور (سائنسی و تکنیکی تعاون) قائم کرنے کے پروگرام اور رکن ممالک کی بندرگاہوں اور لاجسٹکس مراکز کی ترقی کے لیے روڈ میپ پر بھی دستخط کیے۔

وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کو انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ، بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے ایکو سسٹم کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔

وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل تک محدود رہنا کافی نہیں ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت، دہشت گردوں کی بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے پر تمام ممالک کو ایک آواز میں بات کرنی چاہیے اور دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔