Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

رضا پہلوی ایران کے آخری شاہ کے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ بیرونِ ملک سے ایران میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور عندیہ دے چکے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ تہران واپس آ کر عبوری قیادت کے ذریعے ملک کو جمہوری نظام کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تاریخ کے سب سے سخت حکمرانوں میں شمار ہونے والے خامنہ ای مارے گئے ہیں اور یہ ایران کے عوام اور پوری دنیا کے لیے انصاف ہے۔

جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود بعض امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے وزیرِ دفاع امیر نصیر زادہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر محمد پاکپور ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان اطلاعات کی تاحال سرکاری تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے فوجی آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہاں کی فوج اپنے ہتھیار ڈال دے، انہیں معافی مل جائے گی، ورنہ اس حکومت پر موت برسے گی۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اب جنگ کی طرف جا رہا ہے۔ اقتصادی دباؤ، سرحدی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے درمیان دونوں ممالک کی کمزور معیشتوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

اسرائیل نے ہفتہ کی صبح ایران پر اچانک پری ایمپٹو اسٹرائیک کرتے ہوئے پہلا حملہ کر دیا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اچانک انتہائی نازک اور خطرناک ہوگئی ہے۔ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے شدید جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ابوظہبی نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کو اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکہ کے سات فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیل کو شامل کیا جائے تو آٹھ ممالک اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، اردن، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔