Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خمنہ ای کی موت کا بدلا لینے کی بات کہی ہے۔ آئی آر جی سی نے انتقام لینے کا عہد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی والے 27 فوجی اڈوں اور تل ابیب میں اسرائیلی فوجی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد عالم اسلام میں غم کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ لکھنؤ میں مسلم مذہبی رہنماؤں نے تین روزہ سوگ اور خصوصی مجلسِ عزا کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’اسکائی لائٹ‘ پر عمان کے علاقے مسندم کے ساحل سے تقریباً پانچ ناٹیکل میل کے فاصلے پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ عملے کے تمام 20 ارکان کو محفوظ طریقے سے جہاز سے نکال لیا گیا ہے۔

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے گاؤں کِنٹور کا نام سرخیوں میں آ گیا ہے۔ جانیے خامنہ ای کا بارہ بنکی کنکشن کیا ہے اور ’اسلامی انقلاب‘ سے اس کا کیا تعلق ہے؟ سید احمد موسوی ’ہندی‘ کی مکمل ان سنی کہانی۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو ایران بھر میں کیے گئے ہدفی فضائی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ ترین فوجی حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 7 سینئر ایرانی عسکری کمانڈرز مارے گئے۔

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔