Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کے ایران پرحملوں کے درمیان کئی ممالک نے اپنے ایئراسپیس بند کردیئے ہیں۔ ایئرانڈیا نے بتایا کہ آج یوروپ کے کئی شہروں کے لئے 6 پروازیں منسوخ رہیں گی۔

اڈانی پورٹس نے کہا کہ اسرائیل کے ہائیفا پورٹ پرہمارے گروپ کے سبھی ملازم محفوظ ہیں اورکام کاج معمول کے مطابق ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے باوجود پورٹ انفرا اسٹرکچر پوری طرح محفوظ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی شب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مشکل گھڑی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور زنجان میں بھی بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ شہر قم میں واقع حرم حضرت معصومہ پر ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ اسی طرح جمکران مسجد کے گنبد پر علامتی طور پر سرخ ’’پرچم انتقام‘‘ لہرا دیا گیا۔

آیت اللہ خامنہ ای ہفتے کے روز مبینہ طور پر امریکی۔اسرائیلی افواج کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ وہ 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے تھے، جب بانی انقلاب امام خمینی کے انتقال کے بعد انہوں نے منصب سنبھالا تھا۔

اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک ’’نمایاں مدبر رہنما‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔

ایران–اسرائیل کے تنازع کے درمیان آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کی خبروں کے بعد آیت اللہ اعرافی کے عبوری قیادت سنبھالنے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ انہیں عبوری قیادت کونسل میں مذہبی ماہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔