Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بیان جاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔

ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس تنازع کو رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایجنڈے میں دفاعی شعبے کے حوالے سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے صنعتی ڈھانچے کو جنگی بنیادوں کے مطابق ڈھالے گا اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اہم معدنیات پر نئے تجارتی معاہدے کرے گا۔

بھارت بین الاقوامی فورمز پر مسلسل ضبط و تحمل، مکالمے اور پرامن حل کی اپیل کرتا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر بھارت اور اردن کے درمیان روایتی طور پر مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہیں۔

امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔

عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والے تیل بردار ٹینکر ایم کے ڈی ویوم پر سلطنتِ عمان کے ساحل سے تقریباً 52 ناٹیکل میل دور ایک بغیر پائلٹ کے سطحی جہاز (یو ایس وی) کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

گزشتہ تین دنوں کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی افواج نے ایران میں ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن میں ایک درجن سے زائد افراد کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

ایران نے پاکستان کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے اسے بھاری قیمت چکانے کی سخت وارننگ دی ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، جس کی مدد سے ایران کے اندر شدید حملے انجام دیے گئے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی کارروائی ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور اسرائیل کی ’’آپریشن رورنگ لائن‘‘ کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔