Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اس فوجی تصادم میں ایک جانب امریکہ اور اسرائیل ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی افواج اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے باعث نہ صرف فضائی سفر متاثر ہوا ہے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے میں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم کے بوجھ سے نجات حاصل کریں اور ایک آزاد، پرامن اور اقدار پر مبنی ایران کی تعمیر کریں۔

ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیل میں چو طرفہ  دہشت کا ماحول ہے اور سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ اس درمیان ٹرمپ نے ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل کردی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف چار روزہ فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اور دن کے وقت کیے گئے حملوں میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے شروع کر دیے، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

سفارت خانے نے یقین دہانی کرائی کہ بدلتی صورتحال کے دوران بھارتی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ کسی بھی ہنگامی حالت میں شہری 24 گھنٹے ہیلپ لائن +972-54-7520711 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا ای میل کے ذریعے سفارت خانے سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقوں میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ تہران کے ریپبلک علاقے میں متعدد میزائل گرے،

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پورے جنوبی ایشیائی خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ثالثی یا سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے،

فائر بریگیڈ کے سربراہ پاویل ٹوور نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے افراد طیارے میں سوار تھے یا سڑک پر موجود گاڑیوں میں شامل تھے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اپنی اہلیہ کے ہمراہ چار روزہ دورے پر بھارت پہنچ گئے ہیں۔ یہ ان کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔