Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ معاہدہ طے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا گیا۔

ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی فوری ترجیح سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنا اور جہاں طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، انہیں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارۂ صحت نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان ضروری رابطہ، نگرانی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

انفوسس کے مطابق، گوپی سیٹی نیپال کے دورے پر کسی سرکاری یا کاروباری کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں گئے تھے۔ سیلاب کے بعد ان سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد کمپنی کی فوری ترجیح ان کی سلامتی اور خیریت کا پتہ لگانا ہے۔ کمپنی نے ان کے اہل خانہ سے بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور اس مشکل وقت میں ضروری تعاون فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔

چین کے صوبہ سیچوان میں آنے والے زلزلے کے بعد نیپال میں سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

نیپال میں ناراینی ندی کے سیلاب میں بہہ کر جان گنوانے والی ایک خاتون کی لاش سے سونے کی بالیاں چوری کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 41 سیکنڈ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جبکہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ سیلاب اس وقت آیا جب بھوٹے کوشی ندی کی معاون ندی ’لہینڈے‘ کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کے باعث رک گیا۔

پترودا نے کہا کہ جس بھارت میں وہ بڑے ہوئے، وہ تمام برادریوں کا بھارت تھا۔ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔

سدگرو نے حکام کو لکھے خط میں کہا کہ وہ اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ گیارونگ جا کر تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی موجودگی سے ریسکیو ٹیم کے کام میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی

نیپال اس وقت شدید قدرتی آفت سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں بالین شاہ کا بھارت دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔